سٹوری

دبئی میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور سے ملیں جو 10 مختلف زبانیں روانی سے بول سکتا ہے

 

خلیج اردو آن لائن:

ہم روز مرہ کی زندگی میں کئی افراد سے ملتے ہیں آگے گزر جاتے ہیں لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ کون کیا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ کس کوخدا نے کونسی صلاحیت دے رکھی، ہمیں کیا پتہ کہ کل کو ہمارے ساتھ والے گھر میں رہنا والا 12 سالہ بچہ کل کو کوئی عالمی ریکارڈ بنا دے یا ہمارے ساتھ دفتر میں کام کرنے والا کوئی شخص پہلے سے ہی کوئی ریکارڈ بنا چکا ہے یا اس کے پاس کوئی انوکھی خداد صلاحیت موجود۔ ہم تب تک نہیں جان سکتے جب تک کوئی شخص ہمیں اپنے بارے میں نہ بتائے یا جب تک ہم خود دوسرے کی زندگی کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کے اپنے ارد گرد کے لوگوں کی زندگی سے متعلق جاننے کی کوشش کریں۔

آج ہم ایسے ہی ایک ہونہار شخص کی کہانی آپ کے پاس لے کر آ رہے ہیں جو دبئی میں ٹیکسی چلاتا ہے لیکن 10 زبانیں بولنے میں مہارت رکھتا ہے۔ ان صاحب کا نام حسین سید ہے اور وہ پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان دنوں روزگار کے لیے دبئی میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔

حسین نے نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ 10 مختلف زبانیں روانی سے بول سکتے ہیں۔

حسین نے بتایا کہ  وہ عربی، تگالوگ، ملیالم، چینی، روسی، فارسی، انگلش، ہندی، اردو، اور پشتو نہ صرف بول سکتے ہیں بلکہ یہ زبانیں روانی کے ساتھ بولنے پر عبور بھی رکھتے ہیں۔

اور انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یو اے ای میں مقیم بہت سارے فلپینیوں سے زیادہ بہتر فلپینی زبان بول لیتے ہیں۔

حسین نے یہ سب زبانیں کیوں سیکھیں اور کیسے سیکھیں؟

حسین کا کہنا ہے کہ انہوں یہ تمام زبانیں گوگل ٹرانسلیٹ اور مختلف زبانیں سیکھانے والی موبائل ایپس سے ایک روپیہ خرچ کیے بغیر سیکھیں ہیں۔

وہ 14 سال قبل یو اے ای آیا تو اس نے دیکھا کہ مختلف زبانیں سیکھ لینے اس کے دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گی اور اس کے پاس آگے بڑھنے کے لیے مختلف مواقعے دستیاب ہوں گے۔

حسین اپنے انٹرویو میں مزید بتاتے ہیں کہ وہ پشاور میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن جب ان کی اہلیہ کو دل کی بیماری لاحق ہوئی تو اس کے علاج کے اخراجات کے لیے اس یو اے ای آنا پڑا۔ اس کے بیوی اور چار بچے پشاور میں رہتے ہیں۔

اس وقت حسین دبئی میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کے کام کر رہے ہیں اور ان دس زبانوں کے علاوہ فرانسیسی، اطالوی اور ہسپانوی زبانیں سیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حسین سید کی کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ سیکھنے کی لگن، جستجو اور مسلسل محنت سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button