سٹوریپاکستانی خبریں

آندھی اور طوفانی ہواؤں سے سولر پینلز کو نقصان: جانی و مالی خطرات سے بچاؤ کیسے ممکن؟

خلیج اردو
اسلام آباد
حال ہی میں اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں آنے والے شدید آندھی طوفانوں کے باعث متعدد گھروں میں لگے سولر پینلز کو نقصان پہنچا، جن میں کئی مکمل طور پر گر گئے یا ہوا میں اُڑ گئے۔ اسلام آباد کے شہری حسن رضا کے مطابق، ان کے گھر کی چھت پر نصب دو سولر پلیٹس تیز ہوا کے دباؤ میں اکھڑ کر اڑ گئیں، جبکہ ان کے سامنے والے مکان میں سولر سسٹم کا پورا ڈھانچہ زمین بوس ہو گیا۔

پاکستان میں لاکھوں افراد نے بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے گھریلو سطح پر سولر سسٹم نصب کر رکھے ہیں۔ لیکن حالیہ آندھیوں کے دوران ایسی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے کہ ان تنصیبات کی وجہ سے انسانی جانوں کے نقصان کے ساتھ مالی طور پر بھی خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پنجاب کی قدرتی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی پی ڈی ایم اے نے 25 مئی کی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ طوفان کے دوران پیش آنے والے 70 فیصد واقعات براہ راست یا بالواسطہ طور پر سولر سسٹمز سے منسلک تھے۔

تاہم پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان حادثات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جو حقیقت سے بعید ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اپریل کے وسط میں بھی ژالہ باری کے دوران چھتوں پر لگے سولر پینلز کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

بین الاقوامی انرجی تھنک ٹینک ’ایمبر‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سال 2024 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ یعنی 17 گیگا واٹ کے سولر پینلز درآمد کیے، جس سے ملک کی توانائی ضروریات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

موسمیاتی پیش گوئیوں کے ساتھ اب محکمہ موسمیات یہ انتباہ بھی جاری کر رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں بارشوں اور آندھیوں کے ساتھ جہاں مویشیوں اور عمارتوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے، وہیں چھتوں پر نصب سولر پلیٹس کے گرنے کا خدشہ بھی لاحق ہے۔

پی ڈی ایم اے کی 25 مئی کی رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جہلم میں ایک دیوار اور سولر پینل گرنے سے دو اموات ہوئیں، جبکہ خوشاب میں ایک شخص زخمی ہوا۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق، 27 مئی کو میانوالی میں بھی تیز ہوا کے باعث چھت سے پلیٹ گرنے سے ایک فرد زخمی ہوا، جس کے سر پر چوٹ لگی۔

فاروق احمد کے مطابق حالیہ موسم میں سولر پینلز سے منسلک حادثات میں کم از کم سات افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے ایک مراسلے میں خبردار کیا کہ زیادہ تر حادثات غیر معیاری اور ناقص تنصیب کے باعث پیش آئے، جہاں پینلز طوفان میں ڈھانچوں سے اکھڑ کر گر گئے۔

انہوں نے زور دیا کہ چھتوں پر یا کھلے علاقوں میں لگے سسٹمز کو مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ انسٹال کیا جائے اور نصب شدہ ڈھانچوں کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے تاکہ آئندہ نقصان سے بچا جا سکے۔

تاہم پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سربراہ وقاص موسیٰ نے ان الزامات کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بغیر مکمل سیاق و سباق کے اس ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانا ایک ناپسندیدہ رویہ ہے، جو عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔‘ انہوں نے مشورہ دیا کہ صارفین ہر صورت منظور شدہ انجینئرنگ معیار اور حفاظتی رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سولر سسٹم نصب کریں۔

’لاکھوں روپے کے نقصانات کا سامنا‘
اسلام آباد کے رہائشی حسن رضا کا کہنا ہے کہ تیز آندھی کے وقت وہ خود چھت پر موجود تھے اور ہوا اتنی شدید تھی کہ وہ کھڑے نہ رہ سکے۔ ان کے مطابق، ہوا کے دباؤ سے سولر پلیٹس ڈھیلی ہو گئیں اور ایک جانب کو جھک گئیں، جس سے ان کے تقریباً 65 ہزار روپے کا نقصان ہوا، جبکہ ان کے پڑوسی کا مکمل سولر سٹرکچر تباہ ہو گیا۔

اسلام آباد میں سولر سسٹمز انسٹال کرنے والے ماہر ظہیر بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی افراد کو ’لاکھوں روپے‘ کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ایک عام پلیٹ کی قیمت 18 ہزار روپے سے زائد ہے اور گھروں میں عموماً دس یا اس سے زائد پلیٹس نصب ہوتی ہیں۔

دیہی علاقوں میں صورتحال مختلف ہے، جہاں اکثر ٹیوب ویلز کے لیے کھلے میدانوں میں بغیر کسی مستحکم ڈھانچے کے پینلز نصب کیے جاتے ہیں، جو کچی زمین پر رکھے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں شہری علاقوں میں چھتوں پر مضبوط سٹرکچر کے ساتھ انسٹالیشن کی جاتی ہے، جس سے خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔

سولر پینلز کو محفوظ رکھنے کے طریقے
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر پینلز کو صحیح انداز میں نصب کیا جائے تو یہ تیز ہواؤں اور آندھیوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں یہ قانون ہے کہ سولر پینلز کم از کم 140 میل فی گھنٹہ کی ہوا برداشت کرنے کے قابل ہونے چاہییں۔

ظہیر بٹ کے مطابق، پاکستان میں چھتوں پر نصب سولر پینلز کے لیے عمومی طور پر 14 گیج کے زنگ سے محفوظ پائپ استعمال کیے جاتے ہیں اور اگر انسٹالیشن میں غلطی ہو تو نہ صرف تحفظ کا مسئلہ بنتا ہے بلکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پینلز کی تنصیب میں سٹرکچر کو اس انداز سے بلند رکھا جاتا ہے کہ نیچے سے ہوا باآسانی گزر سکے۔ اگر چھت کی دیواریں چار فٹ بلند ہوں تو سامنے سے پینل کو چھ فٹ اور پیچھے سے آٹھ سے نو فٹ بلند کیا جاتا ہے تاکہ ہوا کی روانی متاثر نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈھانچے کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں یا زنگ لگنے کے آثار ظاہر ہوں تو اسے فوری چیک کرنا چاہیے۔ خاص طور پر گارڈر سٹرکچر میں زنگ لگنے کے امکانات کم ہوتے ہیں اور رنگ و روغن کے ذریعے اس کی عمر بڑھائی جا سکتی ہے۔

انھوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ چند ماہ بعد تنصیبات کا معائنہ لازمی کیا جائے، خاص طور پر نٹ بولٹ کی مضبوطی کو جانچنا ضروری ہے، کیونکہ ڈھیلے ہونے کی صورت میں طوفان میں پلیٹس ہلنے لگتی ہیں اور آواز بھی پیدا کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حادثے کی صورت میں سولر سسٹم کو مرمت مکمل ہونے تک بند رکھنا بہتر ہوتا ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button