خلیج اردو آن لائن:
بھارت کی ریاست اتر پردیش میں اس ہفتے ایک رکشہ ڈرائیور نے ایک لڑکی کو لوہے کے راڈ مار مار کر قتل کردیا۔
رکشہ ڈرائیور نے مسافر طالبہ کا قتل کیوں کیا؟
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے لڑکی کو اس لیے قتل کیا کیوںکہ وہ فون پر بات کر رہی تھی۔
بھارتی میڈیا پر نشر کی جانے والی تفصیلات کے مطابق منگل کے روز 20 سالہ آفرین اپنے گاؤں راجپور سے اپنے بھائی نوید کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے کے لیے گئی۔
اے این آئی نیوز میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کے مطابق آفرین کے بھائی نے اسے ٹیوشن سنٹر کی طرف جاتے راستے پر ڈراپ کیا جس کے بعد اس نے وہاں سے رکشہ لیا جس کے ڈرائیور کو وہ پہلے سے جانتی تھی۔ تاہم رکشہ ڈرائیور ان دونوں کے درمیان کسی غلط فہمی کی وجہ سے لڑکی کو لوہے کے راڈ سے مارنا شروع کردیا۔
لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دونوں کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ رکشہ ڈرائیور نے لڑکی پر کر دیا۔
تاہم، زخمی حالت میں آفرین کو قریبی ہسپتال لیجایا گیا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
آفرین کی خبر جب اس کے بھائی نوید کو ملی تو فورا ہسپتال پہنچ گیا لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے آفرین جانبحق ہو چکی تھی۔
نوید کا واقعہ کے حوالے سے بتانا تھا کہ ” ملزم اس قدر خوفناک تھا کہ اس نے میری بہن کا مارنے کے بعد واقعہ کو ٹریفک حادثہ قرار دینے کی کوشش کی”۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اقبال جرم کر لیا ہے، اور پولیس کا مزید کہنا تھا کہ جانبحق ہونے والی خاتون اور ملزم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے رکشہ قبضے میں لے لیا ہے۔
Source: Gulf News






