خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز ایک تاریخی فیصلے کرتے ہوئے یو اے ای کی شہریت سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی کر دی۔
قوانین میں کی گئی تبدیلی کے تحت سرمایہ کاروں، ڈاکٹروں، سائنس دانوں اور دیگر ہنر مند افراد، اور آرٹسٹوں اور انکے خاندادن کے افراد کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے مقصد غیر معمولی مہارت کے حامل افراد اور انکے خاندان کو یو اے ای کی شہریت دے کر انہیں یو اے ای کے معاشرے کا حصہ بنانا ہے، ان افراد کو سماجی استحکام فراہم کرنا، اور مجموعی طور پر پورے ملک ترقی آگے بڑھانا ہے۔
قوانین میں تبدیلی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کے بعد کی گئی ہیں اور ہفتے کے روز یو اے ای کے نائب شیخ محمد بن راشد المکتوم ان تبدیلیوں کی منظوری دے دی۔
We adopted law amendments that allow granting the UAE citizenship to investors, specialized talents & professionals including scientists, doctors, engineers, artists, authors and their families. The new directives aim to attract talents that contribute to our development journey.
— HH Sheikh Mohammed (@HHShkMohd) January 30, 2021
اس قانون کے تحت درج ذیل افراد اور انکے خاندان کے افراد کو یو اے ای میں شہریت مل سکے گی۔ تاہم اس کے لیے درج ذیل شرائط پوری کرنا ضروری ہوں گیں:
شہریت حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کے پاس یو اے ای میں کوئی جائیداد ہونی چاہیے۔
میڈیکل ڈاکٹر اور ہنرمند پیشہ ور افراد میں سے ان افراد کو شہریت دی جائے گی جو اس خاص ہنر میں ہنر مند ہوں گے جس کی یو اے ای کو ضرورت ہوگی۔ اور انہوں نے اپنی فیلڈ میں تحقیقی کام کر رکھا ہوگا، اور انکے پاس اپنے شعبے میں 10 سالہ تجربے کے ساتھ ساتھ اپنے شعبے کے کسی اچھے ادارے کی رکنیت بھی ہو۔
The UAE cabinet, local Emiri courts & executive councils will nominate those eligible for the citizenship under clear criteria set for each category. The law allows receivers of the UAE passport to keep their existing citizenship.
— HH Sheikh Mohammed (@HHShkMohd) January 30, 2021
سائنس دان: سائنس دانوں میں سے وہ سائنس دان یو اے ای کی شہریت کے اہل ہوں گے جو اپنے شعبے میں محقق ہوں، اپنے شعبے میں 10 سالہ تجربہ رکھتے ہوں، سائنسی ایوارڈ وغیرہ جیت رکھا ہوا، یا 10 سالہ تحقیق کے لیے فنڈنگ حاصل کی ہو، اور یو اے ای سے کسی اچھے ادارے کے طرف جاری کردہ سفارشی خط ہو۔
قابلیت کے حامل افرا میں ایجادات کرنے والے، آرٹسٹ اور ادیب لوگ شامل ہیں، انہیں بھی یو اے ای شہریت حاصل کرنے کے لیے کم و بیش ایسی شرائط ہی پوری کرنی ہوں گیں۔ جیسا کہ انوویٹرز کے پاس یو اے ای جانب سے جاری کردہ کم از کم ایک پیٹنٹ موجود ہو۔ اور آرٹسٹوں کو اپنے شعبے کا علمبردار سمجھاجانا چاہیے۔ اور انکے پاس کم از کم ایک بین الاقوامی ایوارڈ ضرورہو۔
مزید برآں، نئے قانون کے مطابق جن افراد کو شہریت دی جائے گی انہیں تمام حقوق حاصل ہوں گے جو یو اے ای کے قوانین دیگر شہریوں کو تفویض کرتے ہیں اور ان افراد سے یو اے ای کے ساتھ وفاداری کا حلف لیا جائےگا۔
اور شہریت کے لیے اہل قرار پانے والے افراد کے حاکم امارات کی عدالت کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔
Source: Gulf News







