خلیج اردو آن لائن:
تائیوان کے ایک اعلی اہلکار نے جمعرات کے روز لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے نام تبدیل کروا کے سالمن رکھنا بند کر دیں۔
لیکن تائیوانی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
دراصل تائیوان میں سوشی بیچنے والے ایک بڑے ریستوران کے جانب سے ایک پروموشن شروع کی گئی تھی۔ جس میں اعلان کی گیا تھا کہ جس کسی کے نام Gui Yu (سالمن کا چینی نام) آتا ہوگا وہ اپنے پانچ دوستوں کے ساتھ جتنی چاہے سوشی کہا سکتا ہے۔
ہوٹل کی اس پرومشن کے بعد سے ابتک تقریبا 150 نوجوان سرکاری دفاتر میں جا کر اپنا نام تبدیل کروا کے سالمن رکھ چکے ہیں۔ خیال رہے کہ تائیوان میں رہائشی اپنا نام تین بار تبدیل کروا سکتے ہیں۔
لیکن ہوٹل پروموشن کے بعد لوگ جب اپنے نام تبدیل کروانے کے سرکاری دفاتر کا رخ کرنے لگے تو سرکاری اہلکاروں کو یہ بات کچھ خاص پسند نہیں آئی۔
تائیوان کے ڈپٹی وزیر داخلہ نے رپورٹوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس طرح نام تبدیل کروانے سے نا صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ غیر ضروری کاغذی کاروائی بھی کرنی پڑتی ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں امید کرتا ہوں ہر کوئی اس حوالے سے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گا”۔
مقامی میڈیا نے نام تبدیل کروانے والے ایسے ہی ایک نوجوان سے بات کی تو اسکا کہنا تھا کہ اسنے آج صبح ہی اپنا نام تبدیل کروایا ہے اور وہ اب تک 7 ہزار تائیوانی ڈالر کا کھانا کھا چکے ہیں۔
دی یونائٹڈ ڈیلی نیوز کے مطابق ایک رہائشی نے اپنے نام میں 36 حروف شامل کروائے ہیں اور یہ تمام حروف سمندری حیات کے ناموں سے متعلق ہیں۔
Source: Khaleej Times







