متحدہ عرب امارات

عید الفطر: متحدہ عرب امارات میں آتش بازی کرنے پر 1 لاکھ درہم جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے

 

خلیج اردو آن لائن:

متحدہ عرب امارات کے حکام نے خاص طور پر نوجوانوں کو آتش بازی کے مظاہروں سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اس کے علاوہ ٹریڈرز کو آتش بازی کے سامان کی غیر قانونی فروخت اور مظاہرے کرنے کے حوالے سے وارننگ دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ یو اے ای میں آتش بازی کرنا ایک غیر قانونی کام ہے لیکن کسی بھی سالانہ تہوار کے قریب آنے پر آتش بازی کے سامان کی فروخت بڑھ جاتی ہے۔ لہذا عید الفطر کے قریب آنے کہ وجہ سے متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے سوشل میڈیا پر آتش بازی کے حوالے سے ایک وارننگ جاری کی گئی ہے۔

پبلک پراسیکیوشن کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے آگاہی پر مبنی ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں عوام کو آتش بازی سے متعلق یو اے ای کے قانون پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اس جرم کا مرتکب ہونے پر 1 لاکھ درہم جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ 2019 کے وفاقی قانون نمبر 17 کے مطابق کسی بھی قسم کے دھماکہ خیز  مواد کا استعمال غیر قانونی ہے۔ لہذا آتش بازی کا مظاہرہ بھی غیر قانونی ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونے والے سامان کو دھماکہ خیز مواد تصور کیا جاتا ہے۔

اس قانون کے آرٹیکل 54 کے مطابق فائر کریکرز (پٹاخوں) کو در آمد کرنے، برآمد کرنے یا بنانے  یا بغیر لائسنس کے انہیں ملک سے باہر لیجانے یا لانے والے شخص کو کم سے کم ایک سال قید یا ایک لاکھ درہم جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔

لہذا حکام اور پولیس کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ عید الفطر کے موقعے پر آتش بازی کرنے سے باز رہا جائے۔ کیونکہ اس عمل سے نہ صرف آپ کو بلکہ ارد گرد کے دیگر افراد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button