خلیجی خبریںپاکستانی خبریں

سعودی جیلوں میں معمولی جرائم میں ملوث پاکستانی قیدیوں کی رہائی جلد ممکن ہو گی: بلال اکبر، سعودی عرب میں نو تعینات پاکستانی سفیر

خلیج اردو: سفیرِ پاکستان لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر نے جدہ میں پاکستان قونصل خانہ جدہ کا پہلا سرکاری دورہ کیا اور قونصلیٹ خانہ میں دیگر امور کے علاوہ انھوں نے پاکستانی صحافیوں سے خصوصی ملاقات بھی کی ۔

بلال اکبر کی پہلی دفعہ پاکستان قونصل خانہ آمد پر ، پاکستان اوورسیز میڈیافورم کی جانب سے سینئر نائب صدر ثناء شعیب نے انکو استقبالیہ پھولوں کا گلدستہ پیش کیا ۔

قونصل جنرل خالد مجید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے سفیر پاکستان کو جدہ آمد پرکمیونٹی اور صحافیوں کی جانب سے خوش آمدید کہا اور قونصل خانہ کی کارگردگی پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ نئے سفیر پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کرنا چاہتے ہیں ۔

بلال اکبر نے اپنے ابتدائی تعارفی خطاب میں کمیونٹی کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوۓ آئندہ آنے والے مہینوں میں پاکستان ایمبیسی ریاض اور جدہ قونصلیٹ کی کارگردگی کی بات کی- اس موقع پر بلال اکبر نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی تارکین کے ھروب (کفیل سے فرار) ، اقاموں کی تجدید، جیلوں میں قید پاکستانیوں، کفیلوں کے ساتھ معاملات سمیت دیگر کئی مسائل پر سعودی جکومت سے بات چیت ہوگی ۔

سفیر پاکستان نے یہ بھی کہا کہ کمیونٹی کے وہ مسائل جن کا تعلق براہ راست حکومت پاکستان سے ہے،ان کو حل کرنے میں کوئی تاخیربرداشت نہیں کی جاے گی ، اور جن مسائل کا تعلق سعودی حکومت سے ہے ، انکو مقامی قوانین کے مطابق بلا تاخیر حل کرنے کی مکلمل کاوش کی جائے گی ۔بلال اکبر نے مزید کہا کہ ہماری اولین ترین کوشش ہے کہ یہاں پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ، اور نظام کو شفاف بنانا، جس کے لیے ٹیکنالوجی کی بھرپور مدد لی جا رہی ہے ۔

اس ملاقات میں قونصل جنرل خالد مجید اور پریس قونصل سید حمزہ گیلانی کے علاوہ اور افسران بھی موجود تھے ۔صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو لوگ ویکسین لگوا کر پاکستان کا سفر کر رہے ہیں ، انکی واپسی کے آسان حل کے لیے وہ سعودی حکام سے رجوع کریں گے۔ اسکے علاوہ پاکستان میں کرونا کی چینی ساختہ ویکسین ، سعودی عرب میں منظور کروانے کے حوالے سے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں ۔

انھوں نے مزید کہا کہ سفارت خانہ پاکستان ریاض اور قونصلیٹ جدہ کے حوالے سے کسی بھی فرد کو کوی مسلۂ یا شکایات ہو تو وہ بلا روک ٹوک میرے سے رجوع کر سکتا ہے ، میری اور میری ٹیم کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ سعودی قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوے کمیونٹی کے ہر ممکن مسائل حل کیے جایئں۔

بلال اکبر نے مثبت صحافتی اقدار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوۓ تمام صحافیوں سے مثبت رول کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ سب صحافی ہم تک لوگوں کےمسائل پہنچانے میں تعاون کریں اور ہمارے سعودی بھائیوں تک پاکستان کے بارےمیں مثبت خبریں انکی زبان میں پہنچائیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی افراد نے سعودی عرب کی ترقی میں اپنی خدمات انجام دی ہیں لیکن اب ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہماری افرادی قوت کو اپنے آپ کو ان جدید تقاضوں سے آراستا کرنا ہو گا ۔
آخر میں سفیرِ پاکستان صحافیوں سے گھل مل گئے اور تمام حاضرین نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، اس موقع پرپاک اوورسیز فورم کے صدر شعیب الطاف سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے پی او ایم ایف کی ٹیم کو ریاض آنے کی دعوت دی اور کمیونٹی کے مسائل کو مزید حل کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button