خلیج اردو
دبئی : دبئی فنانشل سروس اتھارٹی نے جمعرات کو ایک فیصلہ جاری کیا ہے جس میں عارف نقوی کے خلاف لیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات درج ہے۔فیصلے میں عارف مقصود نقوی اور وقار صدیقی کو بھاری جرمانہ کیا ہے جو ابراج گروپ کے سلسلے میں ہے۔
ریگولیٹر نے ان پر 497.86 ملین درہم کا جرمانہ عارف نقوی اور 4.22 ملین دریم مسٹر صدیقی پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ ان دنوں کو ڈی آئی ایف سی سے یا یہاں پر کسی بھی طرح کی سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔
نقوی اور صدیقی نے ڈی ایف ایس اے کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے اور فنانشل مارکیٹس ٹریبیونل ایف ایم ٹی کے ساتھ معاملے کو اٹھایا ہے۔ یہاں دونوں فریقین اپنا موقف رکھیں گے۔
ایف ایم ٹی معاملے کی جانچ کرے گی کہ ڈی ایف ایس اے کا اقدام کیسا ہے اور اس میں قانون کے تقاضے پورے ہوئے ہیں یا نہیں۔ ڈی ایف ایس اے کے فیصلے ، ان کے ڈائریکشن کا جائزہ لیا جائے گا اور مختلف مندرجات پر نظرثانی ہوگی۔
صدیقی اور نقوی نے ایف ایم ٹی سے رابطہ کیا ہے تاکہ ڈی ایف ایس اے ان کے خلاف فیصلوں کو عوامی طور پر پبلش نہ کریں اور اس سماعت کو خفیہ رکھیں۔
تاہم ابراج گروپ کی خواہش کے برعکس ایف ایم ٹی نے فیصلہ دیا کہ ڈی ایف ایس اے اس فیصلے کے نوٹس شائع کر سکتا ہے اور ایف ایم ٹی کی ابراج گروپ کے اپیل سے متعلق سماعتیں عوامی ہوں گی۔
نقوی نے اس سے قبل جون 2021 میں ڈی ایف ایس اے کے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے فیصلے کا عدالتی جائزہ شروع کرنے کی اجازت کیلئے ڈی آئی ایف سی عدالتوں میں درخواست دی چکے تھے۔ وہ درخواست بھی ناکام ہوئے جس کے بعد ڈی ایف ایس اے نے مسٹر نقوی کو فیصلہ نوٹس جاری کرنے کیلئے آغاز کیا تو مسٹر نقوی نے ایف ایم ٹی سے رجوع کیا۔
نقوی نے 2002 میں ابراج گروپ کی بنیاد رکھی۔ یہ کمپنی خطے کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایکویٹی فرم بن گئی جس کے زیر انتظام 14 بلین ڈالر اثاثے ہیں۔ نقوی ابراج گروپ کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر، سی ای او اور ایگزیکٹیو وائس چیئرمین تھے۔
نقوی ابراج گروپ کا پوسٹر مین اور شخصیت تھے جس نے گروپ کی اثر انگیز سرمایہ کاری کی حکمت عملی کی متوقع کامیابی پر دنیا بھر میں اپنا پروفائل اور ساکھ بنائی۔ وہ ابراج گروپ کے اندر اب تک واحد سب سے زیادہ بااثر شخص تھا اور تمام معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے والا تھا۔
فیصلہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نقوی جان بوجھ کر ابراج انویسٹمنٹ لمیٹڈ ذریعے سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے میں ملوث تھا۔ جمعرات کو جاری ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایف ایس اے نے یہ نتیجہ اخز کیا کہ نقوی نے ذاتی طور پر ایسے اقدامات تجویز کرکے ترتیب دیے اور اس پر فیصلہ سنانے کے بعد انجام دیا جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سرمایہ کاروں کو گمراہ کرتے اور دھوکہ دیتے تھے۔
Source : Khaleej Times







