پاکستانی خبریں

فیض حمید ہمارا اثاثہ تھے،انہیں ضائع کردیاگیا،عمران خان کے فیض حمید سے متعلق اہم بیان 

خلیج رادو
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ فیض حمید کے متعلق ریمارکس دیے کہ وہ طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ انگیج تھے ۔ فیض نے دہشتگردی ختم کرنے کا پورا پلان بنایا تھا جسے اپوزیشن کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا۔ باجوہ نے شہباز شریف اور نواز شریف کے کہنے پرانہیں ہٹا دیا۔

 

بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو۔۔کہا۔۔ سارا معاملہ میری گرفتاری سے شروع ہوا اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جا رہی۔۔اگر 9مئی فیض حمیدنے کرایا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔نو مئی دراصل لندن پلان کا حصہ تھا۔

 

جہاں جہاں آگ لگی وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز غائب ہیں۔یہ فوٹیج سامنے لائیں اور ہمیں قصوروار ثابت کریں،چیف الیکشن کمشنر،چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ لندن پلان کا حصہ تھے

 

بانی پی ٹی آئی نے کہا قاضی فائز عیسیٰ کو فیض آباد کمیشن اور بھٹو کا کیس یاد آگیا لیکن ہماری پٹیشن نہیں سن رہے۔میں بار بار باجوہ کو کہتا رہا جنرل فیض کو نہ ہٹائیں۔میری ان سے تلخی بھی ہوئی۔باجوہ نے اپنی توسیع کیلئے میری حکومت گرائی۔۔ فیض حمید،زلمے خلیل زاد اور طالبان کو میرے پاس لے کر آئے تھے۔فیض حمیدکے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

 

وہ تین سال تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے۔آج تمام طالبان ہمارے خلاف ہو چکے۔ روزانہ ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں۔۔دہشت گردی کے ذمہ دار باجوہ ہیں۔ جو مرضی آپریشن کر لیں دہشت گرد سرحد پارکر کے دوسری جانب چلے جائیں گے اور دوبارہ واپس آئیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button