کالم

تائیوان: چین کا اگلا ہدف یا امریکہ کی سرخ لکیر؟

خلیج اردو
تحریر: محمد عبدالسلام
چائنا نے اپنا ایئرکرافٹ کیریئر 59 وارشپ Pagasa Island بھیج دیا۔ یہ جزیرہ بحرِ جنوبی چین میں چائنا کی بالادستی کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ جزیرہ فلپائن کے زیرِ کنٹرول ہے، لیکن چائنا Pagasa سمیت پورے سپارٹلی جزائر پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔

اس سے پہلے اس خطے میں چائنا مصنوعی جزائر جیسے کہ Mischief اور Subi پر رن وے اور فوجی اڈے قائم کر رہا ہے۔ چائنا میں خانہ جنگی کے دوران دو پارٹیاں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہو گئیں: ایک Nationalist Party جس کا سربراہ چنگ کاشک تھا اور دوسری Communist Party of China جس کا سربراہ ماؤ زی ڈونگ تھا۔ 1949 میں یہ خانہ جنگی، جو 1927 میں شروع ہوئی تھی، Communist Party کی جیت پر ختم ہو گئی۔

چنگ کاشک بھاگ کر موجودہ Taiwa میں پناہ لیا اور وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس نے Taiwan کا نام ROC یعنی Republic of China رکھ دیا۔ اس کے مقابلے میں چائنا میں Mao نے حکومت سنبھالی اور اپنے زیرِ سلطنت علاقے کا نام(PRC) یعنی People’s Republic of China رکھا۔ امریکہ سمیت پوری دنیا PRC کو اصل چائنا تصور کرتی ہے اور اس کی حکومت تسلیم کرتی ہے، لیکن غیر رسمی طور پر وہ ROC کے ساتھ تعلقات قائم رکھتی ہے۔ آج تک تقریباً 20 ممالک نے ROC کی حکومت Taiwan میں تسلیم کی ہے۔

امریکہ چائنا کو Taiwan پر زبردستی قبضہ کرنے سے روکتا ہے، اس لیے وہ بحرِ جنوبی چین میں چائنا کی طاقت کو چیلنج کرنے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تنظیمیں بناتا ہے، جیسے کہ انڈیا، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ 2007 میں قائم کی گئی Quad تنظیم اور فلپائن کے ساتھ Enhanced Defense Cooperation۔ فلپائن اور جاپان میں مختلف بیسز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں چائنا تیزی سے بحری قوت (Blue water navy) بنا رہا ہے۔

دراصل چائنا کو اپنی تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے خطرات کا ادراک ہے کیونکہ چائنا کے تجارتی جہاز Malacca Strait سے گزرتے ہیں، جو ملائشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع ہے اور دونوں ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں۔ یہ ابنائے ملاکا کو Amanda Sea (یعنی Indian Ocean) کو South China Sea (یعنی Pacific Oceanبحرالکاہل) سے ملاتا ہے۔ یہی راستے کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے چائنا نے سی پیک شروع کیا ہے۔ سی پیک (China Pakistan Economic Corridor) کے مکمل ہونے سے چائنا کی پریشانیوں میں کمی آئے گی، ایک طرف نہ صرف تجارتی سامان لانے کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ دوسری طرف حالت جنگ میں چائنہ کے تجارتی راستے بند نہیں ہو جائیگی۔ تاہم CPEC کے مکمل ہونے سے چائنا کے لیے Malacca Strait اور South China Sea کی اہمیت میں کمی نہیں آئے گی۔

اگرچہ امریکہ نے تائیوان کو مختلف دفاعی سازو سامان سے آراستہ کیا ہے جیسے کہ F-16 بلاک 72، C-130 ٹرانسپورٹ طیارہ، AH-64E ایپچی اور UH-60بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، Patriot ایئر ڈیفنس سسٹم، مین پورٹیبل Stinger میزائل، Abraham ٹینک، اینٹی سب میرین وارفیئر (ASW) P-3C Orion, جدید ڈرون جیسا کہ RQ-4 Globalhwak , آئیر بارن ارلی وارننگ سسٹمز (AEWS) E-2C HawakEye اور اس کے علاوہ سطح سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلز اور ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے AIM-120 AMRAAM۔ اس سب کے باوجود، تائیوان کو ہڑپ کرنا چائنا کے لیے اتنا مشکل نہیں ہو گا۔

چائنا کو خدشہ ہے کہ کہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعاون سے تائیوان ہمارے لیے یوکرائن نہ بن جائے، جسے نگلنا اور تھوکنا دونوں مشکل نہ بن سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button