
خلیج اردو
تحریر:محمد عبدالسلام خان
آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی پاک بھارت کی طرح روایتی حریف ہیں۔ دونوں کے درمیان کھیلا جانے والا میچ ہمیشہ کانٹے دار ہوتا ہے۔ آج چمپئن ٹرافی میں کھیلا جانے والا یہ میچ انتہائی شاندار اور سنسنی خیز میچ تھا۔ جہاں دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور میچ کے دوران جو جذبہ اور جوش دیکھنے کو ملا وہ واقعی کرکٹ کے حقیقی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ آسٹریلیا نے پہاڑ جیسا 352 رنز کا ٹارگٹ دو اووز پہلے مکمل کیا۔ اس میچ کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ آسٹریلوی کھلاڑی انگلیس نے شاندار اننگز کھیلی، اور ان کی 86 گیندوں پر 120 رنز کی اننگز نے نہ صرف ان کو میچ کا سب سے بہترین کھلاڑی (آف دی میچ) بنایا بلکہ ان کی ٹیم کو ایک اہم فتح دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
انگلیس نے ثابت کیا کہ کس طرح کسی بھی بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف مہارت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ذہن سازی اور مستقل مزاجی بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ 352 رنز کا ہدف ایک انتہائی مشکل ہدف تھا، لیکن انجلیس کی شاندار اننگز نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر آپ کے پاس جذبہ، صلاحیت اور ٹیم کا اعتماد ہو تو کوئی بھی ہدف ناقابلِ حصول نہیں ہوتا۔
انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 351 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کے طرف سے ڈوارشیس نے تین اور زمپا نے دو وکٹس حاصل کئے۔ جواب میں آسٹریلیا نے مقررہ ہدف اڑتالیسویں اوور میں مکمل کرکے پانچ وکٹوں سے جیت اپنے نام کیا۔
اس میچ کے دوران آسٹریلوی بیٹنگ لائن نے ایک طاقتور اور تیز رفتار انداز اپنایا۔ ٹریوس ہیڈ اور اسٹیو اسمتھ جیسے اہم کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے باوجود، انجلیس، الیکس کیری اور میکسویل نے کھیل کی رفتار کو برقرار رکھا۔ وہ نہ صرف اچھے شاٹس کھیلنے میں کامیاب رہے بلکہ انہوں نے کھیل کے دوران تسلسل برقرار رکھا اور آسٹریلیا کو چمپئین ٹرافی کے تاریخ کا سب بڑا ٹارگٹ چیز کرے میں مدد فراہم کیا۔
دوسری طرف انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی طرف سے بھی شاندار کارکردگی دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے بہترین بلے بازی کی اور پہاڑ جیسا ٹارگٹ سیٹ کیا لیکن انکے گیند باز اس ہدف کا دفاع نہ کرسکے اور آسٹریلوی بیٹنگ لائن کی طاقت اور بیٹنگ کی شدت کے سامنے وہ بے بس دکھائی دیے۔ انگلینڈ کے اننگز میں بین ڈکٹ 165 اور روٹ 68 رنز کے ساتھ نمایا بلے باز رہے۔
انگلینڈ نے آغاز میں بہترین گیند بازی کی اور آسٹریلیا کے اوپنرز کو جلد ہی آؤٹ کیا اور تقریبا آدھے سے ذیادہ اننگز میں اپنا گرفت مظبوط رکھا۔ لیکن الیکس کیری اور انگلس نے اسکے امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
پاکستان میں اس میچ کا خاص طور پر ذکر کیا جانا ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں اس وقت چیمپئنز ٹرافی جاری ہے، اور پاکستانی کرکٹ ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اپنی دفاعی چیمپئن حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس میچ میں ہونے والے جوش و جذبے اور کھیل کی شدت کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کا جذبہ دوبارہ سے زندہ ہو چکا ہے۔ پاکستانی شائقین کا کرکٹ کے کھیل سے جو لگاؤ ہے وہ بے مثال ہے اور یہ ان کے دلوں میں کرکٹ کی واپسی کے بعد مزید گہرا ہوا ہے۔ لاہور میں ہونے والے کرکٹ ایونٹس نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی واپسی کے بعد کس طرح عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ آج سٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ آج کرکٹ میچ میں شائقین کا جوش و جذبہ اور ولولہ دیدنی تھا۔ آج لاہور نے ثابت کیا کہ واقعی لاہور ذندہ دلوں کا شہر ہے۔
پاکستانی شائقین کا جوش، کرکٹ کے میدان میں ان کی بھرپور حمایت، اور ان کی حوصلہ افزائی نے اس میچ کو مزید دلچسپ بنا دیا۔ پاکستانی کراؤڈ کی جانب سے کھیل کے دوران جو مثبت توانائی دیکھی گئی۔ اس میچ میں جہاں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا، وہیں پاکستانی شائقین نے اپنی ولولہ انگیزی اور جذبہ نے ایک مثالی کرکٹ ماحول کو جنم دیا۔
پاکستان میں ہونے والے اس چیمپئنز ٹرافی کے دوران، پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اور ان کی دفاعی حیثیت پر نظریں مرکوز ہیں۔ چیمپئنز ٹرافی کے دوران ٹیم کی جیت کے امکانات اور پاکستانی کرکٹرز کے عزم کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی عالمی سطح پر واپسی کے بعد ایک نیا دور شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس کے شائقین کا جذبہ اور ان کی بھرپور حمایت کرکٹ کے کھیل کو ایک نئی سمت دینے کے لیے کافی ہے۔
پاکستان میں اس کرکٹ ٹورنامنٹ کی واپسی نے نہ صرف کرکٹ کے شائقین کو خوشی دی ہے بلکہ دہشت گردی، کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کے مارے ہوئے لوگوں میں امید کی نئی کرن جگا دی۔ اور اگر یہی جذبہ اور لگن برقرار رہی تو پاکستان کا کرکٹ کا مستقبل مزید روشن ہو گا۔ کرکٹ کے میدان مزید آباد ہونگے اور عالمی سطح پر پاکستان کا ایک اچھا اور سافٹ امیج ابھر کر ائیگا۔






