
خلیج اردو
تحریر: محمد عبدالسلام:
بھارت کے خلاف اہم ترین میچ میں شکست نے پاکستان کرکٹ کے زوال کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ قوم کے جذبات، امیدوں، اور خوابوں کا ایک مظہر ہے، لیکن بدقسمتی سے، یہ کھیل بھی کرپشن، اقربا پروری، نااہلی، اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں بچا جہاں میرٹ کو ترجیح دی جاتی ہو، اور یہی حال کرکٹ بورڈ کا بھی ہے۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں فیصلے عوام کے بہترین مفاد میں کیے جاتے ہیں، ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں، اور کسی بھی عہدے پر تعیناتی صرف اور صرف میرٹ پر کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورت حال یکسر مختلف ہے۔ یہاں اداروں میں مداخلت، پسندیدہ افراد کی تعیناتی، اور ذاتی پسند و ناپسند نے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
▫️پی سی بی میں سیاسی اور غیر جمہوری مداخلت
پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک ایسے شخص کے حوالے کر دیا گیا ہے جو کرکٹ کے بارے میں نہ تجربہ رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی وژن۔ محسن نقوی کس حیثیت میں پی سی بی کے چیئرمین بنے؟ کیا وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں؟ کیا انہوں نے کسی جمہوری طریقے سے اپنی اہلیت ثابت کی؟ نہیں! وہ محض ایک مخصوص حلقے کی پشت پناہی پر مسلط کیے گئے ہیں، تاکہ معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا جا سکے۔ یہی وہ رویہ ہے جو صرف کرکٹ ہی نہیں، بلکہ ملک کے ہر ادارے کو زوال کی طرف لے جا رہا ہے۔
▫️غلط کوچنگ، کمزور ٹیم سلیکشن اور غیر پیشہ ورانہ فیصلے
پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست صرف ایک میچ کی ہار نہیں، بلکہ کئی سالوں کے غلط فیصلوں، ناقص حکمت عملی، اور ذاتی پسند و ناپسند کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا مظہر ہے۔ ٹیم ایک متوازن کمبی نیشن کی طرف جا رہی تھی، لیکن پھر ذاتی مفادات اور مخصوص گروپ بندی نے اس عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ شاہد آفریدی جیسے سابق کھلاڑیوں کی مداخلت، ٹیم کے اندرونی ماحول کو خراب کرنے کی کوششیں، اور مخصوص کھلاڑیوں کو نوازنے کا عمل تباہی کا سبب بن رہا ہے۔
▫️اوپننگ اور ناکام حکمت عملی
پاکستانی کرکٹ میں ایک اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایک بار جو غلط فیصلہ کر لیا جائے، اسے تسلیم کرنے کے بجائے زبردستی درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بابر اعظم کی تکنیکی مہارت پر کوئی شک نہیں، لیکن کیا وہ فطری اوپنر ہیں؟ ہر بار یہی کہا جاتا رہا، سابقہ کرکٹرز نے اعتراض کیا کہ بابر سے اوپننگ نہیں کروانی چاہیے، لیکن ٹیم کے مخصوص حلقوں کی ضد اور انا کے باعث یہ فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔ بابر اعظم ون ڈے کرکٹ میں نمبر تین یعنی ون ڈاؤن پوزیشن پر دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں، لیکن بطور اوپنر انہیں کھلا کر ان کی صلاحیتوں کا زیاں کیا جا رہا ہے۔
▫️بینچ اسٹرینتھ: پاکستان کرکٹ کا سنگین مسئلہ
جدید کرکٹ میں بینچ اسٹرینتھ (متبادل کھلاڑیوں کی صلاحیت) کسی بھی ٹیم کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہے۔ بھارت یا آسٹریلیا جیسے کرکٹ کے مضبوط سسٹم رکھنے والے ممالک میں جب بھی کوئی کھلاڑی زخمی ہوتا ہے، ان کی ٹیم میں متبادل کھلاڑی اتنا ہی کامیاب ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال آسٹریلیا کی ٹیم ہے، جہاں پیٹ کمینز، مچل سٹارک، جاش ہیزل وڈ اور مچل مارش انجری کی وجہ سے باہر ہیں، پھر بھی ان کی ٹیم ناقابل شکست ثابت ہو رہی ہے۔
اس کے برعکس، پاکستان میں اس کے برعکس حالات ہیں۔ جب چیمپئنز ٹرافی میں صائم ایوب اور فخر زمان جیسے اہم کھلاڑی زخمی ہوئے تو پوری ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی کیونکہ ان کی جگہ لینے والے کھلاڑی اتنی صلاحیت نہیں رکھتے تھے جتنا ان دونوں کا کھیل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ہر میچ کے بعد اپنے کمبی نیشن کو ترتیب دینے میں مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ متبادل کھلاڑیوں کی تیاری پر ٹھوس توجہ نہ دینے کی وجہ سے پاکستان کے کھیل میں مشکلات آتی ہیں، اور اس کا اثر ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
▫️ماڈرن کرکٹ اور پاکستان کی فرسودہ اپروچ
دنیا کی دیگر ٹیمیں جدید کرکٹ کی جانب بڑھ رہی ہیں، لیکن پاکستان آج بھی پرانے روایتی انداز میں کھیلنے پر مجبور ہے۔ ہم 2025 میں بھی 1980 کی کرکٹ کھیل رہے ہیں، جہاں اسٹرائیک ریٹ، فٹنس، اور مثبت کرکٹ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کو اپنایا جاتا ہے۔ انگلینڈ، آسٹریلیا، اور بھارت کی ٹیمیں جدید کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھ چکی ہیں، لیکن پاکستان میں آج بھی وہی پرانی سوچ غالب ہے، جس میں اننگز کو بچانے کے چکر میں پوری ٹیم دباؤ میں آ جاتی ہے۔
▫️عوام کرکٹ سے دور کیوں ہو رہی ہے؟
پاکستان میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی کا حصہ رہی ہے۔ جب پاکستانی ٹیم جیتتی ہے تو پورا ملک جشن مناتا ہے، جب ہارتی ہے تو غم کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ عوام کرکٹ سے بیزار ہو چکی ہے۔ شائقین جو پہلے ہر میچ کے لیے پرجوش رہتے تھے، اب بے دلی سے میچ دیکھتے ہیں، کیونکہ انہیں پہلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نتیجہ کیا ہوگا۔ یہ وہی قوم ہے جو 1992 کے ورلڈ کپ اور 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی جیت پر گلیوں میں نکل کر خوشی مناتی تھی، لیکن اب شکست پر افسوس کے بجائے غصہ اور مایوسی محسوس کرتی ہے۔ 2021
کے بعد سے پاکستان کو بھارت کے خلاف مسلسل شکستوں کا سامنا ہے، جس نے شائقین کو شدید مایوس کر دیا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 میں بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو ہرایا، پھر ایشیا کپ 2023 میں بھارت نے 228 رنز سے بدترین شکست دی۔ ورلڈ کپ 2023 میں بھی پاکستان دباؤ میں آکر 7 وکٹوں سے ہار گیا۔ حالیہ چیمپئنز ٹرافی میں ایک اور شکست نے یہ ثابت کر دیا کہ پاک-بھارت میچز اب یکطرفہ ہو چکے ہیں۔
پاکستانی کسی بھی ٹیم سے شکست برداشت کر سکتے ہیں، مگر بھارت کے ہاتھوں ہار ہمیشہ ناقابل قبول رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کرکٹ سے اکتا چکی ہے، کیونکہ ہر بڑے ایونٹ میں بھارت سے مسلسل ہار نے شائقین کا جذبہ اور دلچسپی ختم کر دی ہے۔ جب نتیجہ پہلے سے معلوم ہو، تو لوگ کھیل دیکھنے سے بھی گریز کرنے لگتے ہیں۔
وجہ صاف ہے— پاکستانی عوام کو اندازہ ہو چکا ہے کہ کرکٹ میں اب میرٹ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ ٹیم میں شمولیت کا معیار کارکردگی نہیں بلکہ تعلقات، سفارش، اور سیاست بن چکا ہے۔ عوام یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ دیگر ٹیمیں جدید تقاضوں کے مطابق کرکٹ کھیل رہی ہیں جبکہ پاکستانی ٹیم اب بھی پرانی روش پر گامزن ہے۔ جب تک اس زوال کا سدباب نہیں کیا جائے گا، پاکستانی عوام کی کرکٹ سے دلچسپی مزید کم ہوتی جائے گی۔
▫️پاکستان کرکٹ کی بحالی کیسے ممکن؟
اگر واقعی پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانا ہے تو سب سے پہلے سسٹم کو درست کرنا ہوگا۔ میرٹ کی بنیاد پر سلیکشن، کوچنگ، اور قیادت کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ کرکٹ کو سیاست اور ذاتی پسند ناپسند سے نکال کر خالصتاً پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانا ہوگا۔ اگر یہی حالات رہے، تو پاکستان صرف میچز ہی نہیں، بلکہ اپنی کرکٹ کی ساکھ بھی ہار جائے گا۔
ہم ہر ٹورنامنٹ کے بعد چند دن تک واویلا کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر تبصرے اور تجزیے کرتے ہیں، سابق کرکٹرز چیختے چلاتے ہیں، لیکن پھر سب بھول جاتے ہیں۔ پی سی بی کے کرتا دھرتا ٹھس سے مس نہیں ہوتے، اور چند دن بعد حالات پہلے جیسے ہو جاتے ہیں۔ یہی رویہ پاکستان کرکٹ کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہے۔
پاکستان کرکٹ کو دوبارہ عروج پر دیکھنے کا خواب صرف تب پورا ہو سکتا ہے جب نظام کو ٹھیک کیا جائے۔ ٹیم کے فیصلے بغیر کسی دباؤ کے، میرٹ اور پیشہ ورانہ مہارت کو مدنظر رکھ کر کرنے ہوں گے۔ دلیر اور جدید کرکٹ کو سمجھنے والے کھلاڑیوں کو مواقع دینے ہوں گے، تاکہ ہم ایک ایسی ٹیم تشکیل دے سکیں جو دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کر سکے، نہ کہ ماضی کی ناکام پالیسیوں کے تحت کھیلنے پر مجبور ہو۔ اگر یہ سب نہ ہوا، تو اگلے چند سالوں میں پاکستان کرکٹ مکمل زوال کا شکار ہو سکتی ہے، اور شاید وہ دن بھی آئے جب کرکٹ عوام کے لیے محض ایک بھولی بسری یاد بن جائے۔






