پاکستانی خبریں

نومئی واقعہ پر کس قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنائیں ؟سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مزید دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دے دی

خلیج اردو
اسلام آباد:نومئی واقعہ پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا معاملہ، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مزید دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دے دی

سپریم کورٹ میں نومئی واقعہ پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنایا جائے؟

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ نومئی کو درجنوں لوگ مارے گئے، تاہم درخواست کے ساتھ کسی بھی ہلاکت کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا گیا۔

جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ کیا نومئی کے واقعات پر کسی نے کوئی پرائیویٹ شکایت درج کرائی؟ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نومئی کے کیسز پہلے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اگر عدالت کمیشن بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو فوجی عدالتوں سے متعلق پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

سی سی ٹی وی فوٹیجز پی ٹی آئی کے لیے مضبوط دفاع؟

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز پی ٹی آئی کے لیے ایک مضبوط دفاع ثابت ہو سکتی ہیں۔

وکیل حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن انکوائری کرے گا تو اموات کا پتہ چلے گا۔ جس پر جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ آپ کم از کم ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا ایف آئی آر کی کاپی تو لگا سکتے تھے۔

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مزید دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دے دی اور سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button