عالمی خبریں

امریکی صدر اور نائب صدر کے رویے پر عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا

خلیج اردو
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ سخت رویے پر ملک بھر میں شدید احتجاج جاری ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ اور نائب صدر وینس نے زیلنسکی کے ساتھ سخت لہجے میں گفتگو کی، جس پر امریکی عوام نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف واشنگٹن، نیویارک، لاس اینجلس اور بوسٹن سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

نائب صدر جے ڈی وینس جب اسکینگ کے لیے ورمونٹ پہنچے تو وہاں بھی مظاہرین پہنچ گئے اور انہوں نے نعرے لگائے، **”وینس جاؤ، روس جا کر اسکینگ کرو”**۔ احتجاج کے بعد وینس نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چھٹیاں منانے کے لیے کسی نامعلوم مقام کا رخ کر لیا۔

مظاہرین نے نیویارک، لاس اینجلس اور بوسٹن میں ٹیسلا کمپنی کی دکانوں پر ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک کے خلاف بھی مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ ایلون مسک یوکرین کے معاملے میں روسی مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، جو قابلِ قبول نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کو سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسری عالمی جنگ کے لیے خطرہ بن رہے ہیں اور دنیا کو تباہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ زیلنسکی کی وجہ سے جنگ بندی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

ان حالات میں یوکرینی صدر زیلنسکی نے امریکہ سے یوکرین کی حمایت میں مزید مضبوط مؤقف اپنانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو یوکرین کے دفاع میں مزید مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

ملک بھر میں جاری ان مظاہروں کے بعد امریکی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے اور یوکرین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button