
خلیج اردو
نئی دہلی: معروف ماہرِ معاشیات اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین نے حالیہ بیانات میں بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر گرامین بینک کے بانی اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو متنبہ کیا ہے کہ عوامی لیگ پر پابندی لگانے کی کوششیں ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
امرتیا سین کے مطابق، عوامی لیگ بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والی جماعت ہے، اور اس پر پابندی لگانے سے ملک کی سیاسی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ عوام کی آواز مؤثر طریقے سے سنی جا سکے۔
محمد یونس، جو حال ہی میں بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کی سربراہی کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، پر امرتیا سین کی تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
عوامی لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات نے ملک کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امرتیا سین نے زور دیا ہے کہ بنگلہ دیش کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ محمد یونس اور دیگر سیاسی رہنما ملک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے تاکہ بنگلہ دیش میں جمہوریت اور استحکام برقرار رہ سکے۔
یہ صورتحال بنگلہ دیش کے عوام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے، جو ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل اور سیاسی استحکام کے خواہاں ہیں۔
امرتیا سین کی تنبیہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ حالات میں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔







