پاکستانی خبریں

آئین میں مارشل لاء کی کوئی گنجائش نہیں، فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل پر سپریم کورٹ کے ریمارکس

خلیج اردو
اسلام آباد، 6 مارچ – سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین میں مارشل لاء کی کوئی اجازت نہیں، اور ملک میں کب مارشل لاء نافذ ہوا، اس کا فوجی عدالتوں کے کیس سے کوئی تعلق نہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے بھی ریمارکس دیے کہ آئین میں مارشل لاء کا کوئی ذکر نہیں، کیونکہ یہ ایک ماورائے آئین اقدام ہوتا ہے۔ وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ مارشل لاء لگانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیا جاتا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے اب اس کا راستہ بند ہو چکا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل حامد خان سے سوال کیا کہ وہ یہ واضح کریں کہ کیا سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ عدالت ماضی کی بحث میں نہیں جانا چاہتی۔ حامد خان نے جواب میں کہا کہ 1952 میں جب آرمی ایکٹ متعارف ہوا، تب پاکستان میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ نافذ تھا، اور بعد میں بنیادی حقوق آئین میں شامل کیے گئے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریری معروضات میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کی مختلف شقوں کو ماضی میں عدالتی فیصلوں میں درست قرار دیا جا چکا ہے اور اسے غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button