
خلیج اردو
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کے منصوبے پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکطرفہ فیصلے وفاقی اکائیوں کے درمیان تناؤ کا باعث بنتے ہیں اور اس تجویز کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
صدر نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس منصوبے کو ترک کرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایسا حل نکالے جو تمام اکائیوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور صدر میری ذمہ داری ہے کہ میں چاروں صوبوں کی یکجہتی کو یقینی بناؤں۔ میں نے مشکل ترین حالات میں بھی ‘پاکستان کھپے’ کا نعرہ لگایا اور میرے لیے پاکستان ہمیشہ پہلے آتا ہے۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ذاتی اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک کی ترقی پر توجہ دینی ہوگی۔
معیشت میں استحکام، پالیسی ریٹ میں کمی خوش آئند ہے
صدر مملکت نے ملکی معیشت میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام معاشی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں، ٹیکس کے نظام میں مزید بہتری لانا ہوگی اور ملک کو یکجہتی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ صدر نے نوجوانوں کو فنی تعلیم دینے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔
اپوزیشن کا شور شرابہ، صدر زرداری کے چہرے پر مسکراہٹ
صدر آصف علی زرداری کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور "قیدی نمبر 804” کے نعرے بلند کیے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کرتے رہے۔ تاہم، صدر نے کسی ردعمل کا اظہار کیے بغیر مسکراتے ہوئے اپنا خطاب جاری رکھا۔
اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ ترکی، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان، فلسطین، جرمنی، فرانس اور عراق کے سفیر بھی شریک ہوئے۔







