پاکستانی خبریں

فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف کیس: آئینی بینچ کے اہم ریمارکس

خلیج اردو
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران آئینی بینچ نے اہم ریمارکس دیے ہیں۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ خصوصی طور پر افواجِ پاکستان کے ممبران کے لیے ہے، جبکہ کسی فوجی کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا جرم دہشت گردی ایکٹ کے تحت آتا ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ عدالتیں آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت قائم ہوتی ہیں، اس حوالے سے وضاحت دی جائے کہ کیا یہ عدالت بھی اسی کے تحت بنی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ نیا آئینی بینچ مقدمہ سن رہا ہے اور تمام میرٹس زیر بحث آ سکتے ہیں۔

وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئینی بینچ اپیل میں کیس واپس بھی بھیج سکتا ہے اور ایف بی علی کیس میں آرٹیکل 6 کی شق تین کے تحت بنیادی حقوق کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا تھا۔

جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ آئینی بینچ ہے، کوئی ہائی کورٹ نہیں کہ اس کا دائرۂ سماعت محدود ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم مرکزی فیصلے سے اتفاق بھی کریں، تب بھی اپنی رائے الگ سے دے سکتے ہیں۔

دوسری طرف کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ انٹرا کورٹ اپیل کا دائرہ محدود ہے، تاہم بینچ نے واضح کیا کہ آئینی بینچ میں تمام قانونی نکات زیر بحث آ سکتے ہیں۔

کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button