
خلیج اردو
نیویارک: امریکا میں سکھ رہنما گروپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش کے مقدمے میں عدالت نے بھارتی شہری نکھل گپتا کے خلاف باضابطہ مقدمہ چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عدالت نے نکھل گپتا سے ملنے والے 15 ہزار امریکی ڈالر بھی ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ رقم مبینہ طور پر بھارتی سابق انٹیلی جنس افسر کی جانب سے کرائے کے قاتل کو ادائیگی کے لیے فراہم کی گئی تھی۔
اس مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، نکھل گپتا پر الزام ہے کہ اس نے گروپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے بعد کرائے کے قاتلوں کے لیے رقم فراہم کی۔ یہ رقم بھارتی انٹیلی جنس کی جانب سے اس کارروائی کے لیے بھیجی گئی تھی۔ امریکی حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے نکھل گپتا کو گرفتار کیا اور اس کے خلاف باضابطہ مقدمہ چلانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
یہ مقدمہ امریکا اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں بھارتی ایجنسیوں کے مبینہ کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام نے اس سازش کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی ایک اور مثال قرار دیا ہے، اور اس پر سخت قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔






