
خلیج اردو
ہیگ: متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں سوڈانی فوج کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کو "جھوٹا اور سیاسی تماشا” قرار دیتے ہوئے بھرپور قانونی دفاع پیش کیا ہے۔ عدالت میں یو اے ای کی نمائندگی کرتے ہوئے نائب معاون وزیر برائے سیاسی امور، ریم کتیت نے کہا کہ سوڈان اپنے جرائم سے توجہ ہٹانے کی خاطر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔
سوڈانی فوج نے الزام عائد کیا تھا کہ یو اے ای نے مغربی دارفور میں مسالیت قبیلے کے خلاف نسل کشی میں ملوث گروہوں کو معاونت فراہم کی، اور اس الزام کے تحت یو اے ای پر نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیا۔
ریم کتیت نے ان الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای نے نہ تو کسی فریق کو اسلحہ دیا اور نہ ہی کسی طور جنگ میں مداخلت کی۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان کی جانب سے مقدمہ دائر کرنا بین الاقوامی قانونی نظام کا غلط استعمال ہے، اور یہ ملک اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے عدالت کو ایک سیاسی فورم بنانا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ تکنیکی طور پر بھی ناقابلِ سماعت ہے، کیونکہ یو اے ای نے کنونشن کی شق IX پر اپنا تحفظ درج کروا رکھا ہے، جو کہ ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔
ریاست کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے یو اے ای کی قانونی ٹیم کی کارکردگی کو "شاندار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یو اے ای نے عدالت میں مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کر کے ثابت کیا ہے کہ یہ الزامات صرف بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔
ریم کتیت نے عدالت کو بتایا کہ یو اے ای نے سوڈان کے عوام کی مدد کے لیے اب تک 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 600 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، اور چاد و جنوبی سوڈان میں میدانی اسپتال بھی قائم کیے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سوڈان نے پورٹ سوڈان میں اسپتال قائم کرنے کی یو اے ای کی پیشکش کو بھی رد کر دیا۔
سماعت کے دوران یو اے ای کی قانونی ٹیم نے عدالت میں اس بات پر بھی زور دیا کہ سوڈانی الزامات میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، اور یہ تمام مقدمہ محض سیاسی دباؤ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔







