
خلیج اردو
کابل:
اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں میں سے کم از کم پانچ لاکھ ہتھیار غائب، فروخت یا سرحد پار اسمگل کیے جا چکے ہیں۔ عالمی ادارے کو شبہ ہے کہ یہ مہلک اسلحہ القاعدہ سے منسلک شدت پسند گروپوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد وہ تقریباً 10 لاکھ امریکی فوجی ہتھیار اور ساز و سامان پر قابض ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان نے بند کمرہ اجلاس میں اعتراف کیا کہ ان کے قبضے میں موجود فوجی سامان کا تقریباً نصف اب ریکارڈ میں موجود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق بلیک مارکیٹ میں یہ اسلحہ کھلے عام فروخت ہو رہا ہے، یہاں تک کہ واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر بھی اس کی خریدو فروخت جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی 2023 کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ طالبان نے مقامی کمانڈرز کو امریکی ہتھیاروں کا 20 فیصد رکھنے کی اجازت دی تھی۔
طالبان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسلحہ محفوظ انداز میں ذخیرہ کیا جا رہا ہے، اور کوئی غیر قانونی فروخت یا منتقلی نہیں ہو رہی۔
اس صورتحال پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ ہتھیار ہر حال میں واپس لینے چاہییں، کیونکہ ان کا غلط ہاتھوں میں جانا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔






