
خلیج اردو
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، اور پاکستان اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اسحاق ڈار نے یہ بات وفاقی وزراء کے ہمراہ سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہی۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بھیجے گئے مذمتی مراسلے میں سندھ طاس معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا، اور یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کے خلاف کسی بھی اقدام کو پاکستان مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس دو راستے ہیں: ہم بھی شملہ معاہدے کو معطل کر سکتے ہیں، اگر بھارت کے پاس پہلگام واقعے کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ انہیں شیئر کرے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ایسے اقدامات جو 24 کروڑ عوام کے مستقبل سے کھیلنے والے ہوں، کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ سری نگر میں غیر ملکی افراد آئے ہیں جن کے پاس خصوصی ساز و سامان تھا، اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں وہاں رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس حوالے سے انٹیلی جنس اطلاعات ہیں اور ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ ماضی سے بھی زیادہ برا ہوگا۔






