
خلیج اردو
دبئی میں مقیم 38 سالہ بھارتی نژاد محمد صفوان شانو کرکٹ میچ کے دوران اچانک گر کر انتقال کر گئے، جس کے بعد سینکڑوں دوستوں، رشتہ داروں اور کمیونٹی کے افراد نے ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔ مرحوم کے والدین بھی بھارت سے دبئی پہنچے تاکہ اپنے بیٹے کی آخری رسومات میں شریک ہو سکیں۔
محمد صفوان شانو کا تعلق بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر Bhatkal سے تھا اور وہ گزشتہ 15 برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے اور چار ماہ قبل پیدا ہونے والی ایک بیٹی شامل ہیں۔
دوستوں کے مطابق صفوان ہفتہ کی شام معمول کے مطابق دبئی کے واٹر فرنٹ مارکیٹ گئے، خریداری کی اور اتوار کی صبح اپنے دیرینہ دوستوں کے ساتھ ہفتہ وار کرکٹ میچ کھیلنے پہنچے۔ کھیل کے دوران صبح تقریباً 7 بج کر 10 منٹ پر وہ بیٹنگ کرتے ہوئے اچانک گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے۔
ان کے قریبی دوست نبیل کریکل نے بتایا، "ہم برسوں سے ہر اتوار کو کرکٹ کھیلتے تھے۔ ہفتہ کی شام بھی ہم اکٹھے خریداری کیلئے گئے تھے اور وہ مکمل طور پر صحت مند دکھائی دے رہے تھے۔ اگلی صبح ہم ایک ہی گاڑی میں گراؤنڈ پہنچے، سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔”
انہوں نے کہا کہ صفوان کے گرنے کے فوراً بعد ساتھی کھلاڑیوں نے امدادی کارروائی شروع کی، ایمبولینس طلب کی گئی اور سی پی آر بھی دی گئی، تاہم اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔
مرحوم کی تدفین Al Qusais Cemetery میں کی گئی، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کمیونٹی رہنماؤں اور دوستوں نے انہیں نہ صرف ایک اچھا کرکٹر بلکہ ایک خوش اخلاق اور ملنسار انسان قرار دیا۔
دبئی میں نوایات کمیونٹی کے رہنما Muniri Atiqur Rahman نے کہا، "صفوان ہر شخص کو اپنے خاندان کا حصہ محسوس کراتے تھے۔ ان کی عاجزی، خلوص اور محبت نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا تھا۔”
دوستوں کے مطابق صفوان نے دبئی میں مختلف کرکٹ ٹیموں کی قیادت کی اور متعدد ٹورنامنٹس میں بہترین کھلاڑی کے اعزازات بھی حاصل کیے۔ ساتھی کرکٹر محتشم جکتی نے انہیں بھٹکل سے تعلق رکھنے والے بہترین بلے بازوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات کرکٹ کمیونٹی کیلئے بڑا نقصان ہے۔
صفوان کے انتقال کی خبر بھارت پہنچنے پر ان کے والدین نے فوری طور پر دبئی آنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم ان کے پاس ویزا موجود نہیں تھا۔ اہل خانہ اور دوستوں نے ہنگامی بنیادوں پر ویزا اور سفری انتظامات مکمل کیے تاکہ وہ اپنے بیٹے کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔
محمد صفوان شانو کو دوست آج بھی ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کر رہے ہیں جس کی زندگی میں کرکٹ اور انسان دوستی دونوں کو یکساں اہمیت حاصل تھی۔







