
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی Ministry of Human Resources and Emiratisation نے اماراتائزیشن سے متعلق نئے ضوابط متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت نجی شعبے کے اسپتالوں اور طبی مراکز کو اپنی سالانہ اماراتائزیشن ہدف کا 50 فیصد حصہ خصوصی طبی ملازمتوں کیلئے مختص کرنا ہوگا۔
نئے فیصلے کے مطابق نجی صحت کے اداروں میں اماراتی شہریوں کیلئے مختص اسامیوں کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک حصہ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر خصوصی طبی پیشوں کیلئے جبکہ دوسرا حصہ دیگر ہنر مند اور پیشہ ورانہ عہدوں کیلئے ہوگا۔
وزارت نے اعلان کیا ہے کہ اس نئے ضابطے پر عمل درآمد کا جائزہ 2027 کے آغاز سے لیا جائے گا۔ جو طبی ادارے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے، انہیں مالی جرمانوں یا اضافی مالی ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام تک نجی طبی شعبے میں 8,800 سے زائد اماراتی شہری ملازمت کر رہے تھے، جن میں 82 فیصد خواتین شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار صحت کے شعبے میں مقامی افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ فیصلہ Ministry of Health and Prevention کے تعاون سے کیا گیا ہے اور اس سے قبل نجی صحت کے شعبے میں دستیاب ملازمتوں اور افرادی قوت کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔
50 یا اس سے زیادہ ملازمین رکھنے والے نجی طبی اداروں پر پہلے ہی یہ شرط عائد ہے کہ وہ ہنر مند ملازمتوں میں سالانہ 2 فیصد اماراتائزیشن کا ہدف حاصل کریں۔ نئے ضابطے کے بعد اس ہدف کا نصف حصہ لازمی طور پر طبی اور صحت سے متعلق خصوصی شعبوں میں پورا کرنا ہوگا۔
وزارت میں قومی ٹیلنٹ کی اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری Farida Al Ali نے نجی طبی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر فوری طور پر تعمیل کے منصوبے تیار کریں اور اماراتی امیدواروں کی بھرتی کیلئے ضروری اقدامات کریں۔
انہوں نے طبی اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ خالی آسامیوں کو Nafis Programme پلیٹ فارم پر رجسٹر کریں تاکہ صحت کے شعبے میں دستیاب اہل اماراتی امیدواروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
وزارت صحت و تحفظ کے قائم مقام اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری Abdullah Ahli نے کہا کہ یہ فیصلہ نجی طبی شعبے میں اماراتی شہریوں کی تعداد بڑھانے اور انہیں طویل المدتی کیریئر کے مواقع فراہم کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق نافس پروگرام کی مدت 2040 تک بڑھائے جانے سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اماراتائزیشن حکومت کی اہم قومی ترجیحات میں شامل ہے، جس کا مقصد اماراتی شہریوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا اور مختلف معاشی شعبوں میں ان کی نمائندگی کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ نیا اقدام نجی صحت کے شعبے میں مقامی افرادی قوت کے کردار کو مزید وسعت دینے اور مستقبل میں صحت کے نظام کو زیادہ پائیدار بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔







