
خلیج اردو
اسلام آباد، 30 اپریل 2025
پاکستان نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بھارتی فوجی افسران پاکستان میں دہشت گردی کی منظم سرپرستی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسران نہ صرف دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں بلکہ انہیں اسلحہ، بارودی مواد، ڈرونز اور آن لائن ٹریننگ بھی مہیا کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے ایک ایسے دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے جس نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں کئی دہشتگرد کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس دہشت گرد کے بیانات اور ڈیجیٹل شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا براہِ راست رابطہ بھارت میں موجود ہینڈلرز سے تھا، جو بھارتی فوج سے وابستہ ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجی افسران خود اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ "لاہور تک کام کر رہے ہیں”۔ یہ اقرار اس حقیقت کو مزید تقویت دیتا ہے کہ بھارت سرحد پار سے ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے متعدد واقعات میں براہ راست بھارتی مداخلت پائی گئی ہے، جن میں پاک افغان سرحد پر ہونے والی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں لیکن آج تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان کے پاس بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جو بین الاقوامی برادری کے ساتھ بھی شیئر کیے جائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لیں اور اس کے خلاف کارروائی کریں تاکہ خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔







