
خلیج اردو
اسلام آباد:وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پی ایم ڈی سی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کے لیے ایک اہم انقلابی اقدام کا اعلان کیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ فاٹا کے ضم شدہ اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے طلباء کا داخلے کا مسئلہ گزشتہ 9 ماہ سے چل رہا تھا، جسے اب حل کر لیا گیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے پی ایم ڈی سی کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، اور اس کا نوٹیفکیشن دو دن پہلے جاری کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت فاٹا اور بلوچستان کے 333 طلباء کو میڈیکل کالجز میں داخلے کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ یہ اقدام فاٹا اور بلوچستان کے طلباء کے احساسِ محرومی کو دور کرے گا اور قومی یکجہتی کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انقلابی قدم پسماندہ علاقوں میں میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس سے طلباء کو معیاری تعلیم کے مواقع ملیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب شہباز شریف کا اس مسئلے میں ذاتی دلچسپی اور ہدایت کی بدولت اس دیرینہ مسئلے کو کامیابی سے حل کیا گیا ہے۔
وزیر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ایم ڈی سی اس فیصلے کی شفاف نگرانی کرے گا اور مستحق طلبہ اب معیاری میڈیکل ایجوکیشن سے محروم نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے سالوں میں کوئی بھی قابل طالب علم سماجی یا جغرافیائی محرومی کی بنیاد پر معیاری تعلیم سے محروم نہیں ہوگا۔







