
خلیج اردو
اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ وہ ڈائیلاگ یا تباہی میں سے ایک راستہ چن لے، کیونکہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور مکالمہ ہی تنازعات کے حل کا مؤثر اور ذمہ دارانہ ذریعہ ہیں اور پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے میں کوئی ہاتھ نہیں، لیکن اگر بھارت پاگل پن پر اتر آیا ہے تو جان لے کہ پاکستانی قوم نے سر جھکا کر جینے کا فن نہیں سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔
اپنے خطاب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کشمیر کو ایک متنازع علاقہ قرار دیا جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں گولی نہیں بلکہ استصواب رائے ہونا چاہیے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی سے دہشت گردانہ اقدامات کو ختم کرے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔
بلاول بھٹو نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دریائے سندھ کی حفاظت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت دریا کا رخ تو موڑ سکتا ہے لیکن انہیں خشک نہیں کر سکتا۔







