
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (این سی ایم) نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز اور دعوؤں کو مسترد کردیا ہے جن میں ال نینو موسمیاتی رجحان کے باعث یو اے ای میں شدید بارشوں اور بڑے پیمانے پر سیلاب کی پیشگوئی کی جا رہی تھی۔ این سی ایم نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسمی صورتحال سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔
این سی ایم کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پیغامات میں ال نینو کے یو اے ای کے موسم پر اثرات سے متعلق گمراہ کن دعوے کیے گئے ہیں، اس لیے شہری اور رہائشی معلومات شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضرور کریں۔
حکام نے بتایا کہ ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جس کا براہ راست اثر بحرالکاہل کے خطے میں ہوتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات پر اس کے اثرات بالواسطہ ہوتے ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں اس کے باعث کہیں خشک سالی اور کہیں معمول سے زیادہ بارشیں دیکھی جاتی ہیں۔
این سی ایم کے مطابق رواں سال ال نینو کی شدت زیادہ ہے اور اسے بہتر بارشوں کے امکان کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم مناسب موسمی حالات بننے کی صورت میں بعض اوقات تیز بارشیں بھی ہوسکتی ہیں۔
موسمیاتی مرکز نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں موسمی صورتحال مستحکم ہے اور اسے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ این سی ایم نے کہا کہ وہ علاقائی اور عالمی موسمیاتی نظام پر چوبیس گھنٹے نظر رکھتا ہے، جبکہ کسی بھی اہم موسمی صورتحال سے متعلق پیشگی سرکاری ذرائع کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔
این سی ایم نے عوام اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں اور موسم سے متعلق تمام اپ ڈیٹس کے لیے صرف سرکاری ذرائع استعمال کریں۔
اس سے قبل این سی ایم کے ماہر احمد حبیب نے کہا تھا کہ ال نینو کا اثر رواں سال خزاں کے موسم، خصوصاً اکتوبر اور نومبر کے دوران خطے کے موسم پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق موسم گرما میں اس موسمیاتی رجحان کا اثر مشرقی ایشیا میں زیادہ نمایاں رہا، جبکہ مغربی ایشیا میں اس کا اثر محدود رہا۔







