متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں خواتین کی دوبارہ کیریئر میں واپسی، "کیرئیر بریک” کے بعد نئی شروعات

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کئی خواتین نے ملازمت سے وقفے کے بعد دوبارہ اپنے کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تجربہ اور صلاحیتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ بایوٹیکنالوجی انجینئر اور سائنسی مصنفہ شازیہ شاہ بندری کے لیے کام پر واپسی صرف نوکری حاصل کرنے کا مرحلہ نہیں تھا بلکہ اپنی پیشہ ورانہ شناخت دوبارہ تلاش کرنے کا سفر تھا۔

شازیہ کا کہنا ہے کہ گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف رہتے ہوئے وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دور ہوگئی تھیں، تاہم اندر ایک احساس موجود تھا کہ وہ اب بھی بہت کچھ سیکھنے اور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی جذبے نے انہیں ویمنز پویلین کے "ریٹرن ٹو ورک” پروگرام تک پہنچایا، جہاں وہ پہلے بیچ میں شامل 20 خواتین میں سے ایک منتخب ہوئیں۔

ایکسپو سٹی دبئی کے ویمنز پویلین کی جانب سے شروع کیے گئے سما پلیٹ فارم کے تحت پروگرام کے دوسرے بیچ کا آغاز ہوگیا ہے، جس کا مقصد خواتین کو دوبارہ روزگار، تربیت اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنا ہے۔

شازیہ کے مطابق پروگرام میں شامل دیگر خواتین سے ملاقات نے انہیں احساس دلایا کہ دوبارہ کیریئر شروع کرنے کے حوالے سے خدشات رکھنے والی وہ اکیلی نہیں ہیں۔ نیٹ ورکنگ، سیکھنے اور نئے مواقع تلاش کرنے سے انہیں اعتماد ملا اور وہ محسوس کرنے لگیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا وہ حصہ دوبارہ حاصل کرلیا ہے جسے وہ کھو چکی تھیں۔

سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی کی ماہر، ٹرینر اور کنسلٹنٹ روبہ سلیمان کے مطابق "کیرئیر بریک” کا لفظ ان کے تجربات کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ روایتی ملازمت سے دوری کے دوران بھی وہ غیر فعال نہیں رہیں بلکہ کاروبار، مارکیٹنگ، تدریس، تربیت اور مشاورتی منصوبوں سے منسلک رہیں۔

روبہ کے مطابق اصل چیلنج یہ تھا کہ ان تمام تجربات کو ایک مربوط پیشہ ورانہ کہانی کے طور پر پیش کیا جائے۔ پروگرام نے انہیں اپنی صلاحیتوں اور ماضی کے تجربات کی قدر کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی۔

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر یوکی یاماگوچی، جو ہیلتھ کیئر مینجمنٹ میں ایم بی اے بھی رکھتی ہیں، کے لیے بھی یہ پروگرام متحدہ عرب امارات منتقل ہونے کے بعد ایک اہم مرحلے پر سامنے آیا۔ ایک مینٹور کی مدد سے انہوں نے اپنے تجربات کا جائزہ لیا اور اپنے مستقبل کے کیریئر کے لیے نئی سمت کا تعین کیا۔

ڈاکٹر یوکی اب دبئی ہیلتھ کے سینٹر آف انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی میں پروجیکٹ کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں، جہاں وہ تحقیق اور جدت سے متعلق منصوبوں پر کام کرتی ہیں۔

سما پلیٹ فارم کا آغاز 7 ستمبر کو کیا گیا، جس کا نام عربی لفظ "آسمان” سے لیا گیا ہے اور یہ خواتین کو مختلف کیریئر مراحل میں تربیت، پیشہ ورانہ ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

ریٹرن ٹو ورک پروگرام ایچ ایس بی سی کے تعاون سے، ایکسپو سٹی دبئی فاؤنڈیشن کی معاونت اور سی تھری کمپنیز کریئٹنگ چینج کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق پہلے بیچ کی تقریباً ایک تہائی خواتین مکمل وقت کی ملازمتوں سے منسلک ہوچکی ہیں، جبکہ 10 فیصد خواتین نے کاروبار یا فری لانس کام کا آغاز کیا ہے۔

2027 کے آغاز سے سما اسکلز سیشنز کے ذریعے خواتین کو سی وی بنانے، انٹرویو کی تیاری، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور مالیاتی امور سے متعلق تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ دوسرے ریٹرن ٹو ورک بیچ کے لیے درخواستیں 27 ستمبر تک جاری ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button