
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں ورک پلیس تیزی سے تبدیل ہونے کے دوران ہیومن ریسورسز کے ماہرین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ یہ بات دبئی میں منعقدہ فیوچر آف ورک فورس سمٹ 2026 کے دوسرے ایڈیشن کے افتتاحی سیشن میں ماہرین نے کہی، جہاں ٹیکنالوجی، قیادت اور ملازمین سے متعلق حکمت عملیوں میں تبدیلی پر گفتگو کی گئی۔
خلیج ٹائمز کے چیف کنٹینٹ آفیسر ٹیڈ کیمپ نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کام کرنے کے طریقے، کیریئر بنانے کے انداز اور ملازمین کی اداروں سے توقعات تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں۔ ان کے مطابق مختلف نسلوں کے افراد اب ایک ساتھ کام کررہے ہیں، جبکہ خطہ کاروبار، جدت اور عالمی ٹیلنٹ کے لیے اہم مرکز بن رہا ہے۔
گلداری برادرز کے گروپ چیف ہیومن ریسورسز آفیسر ڈومینک کیوگ پیٹرز نے کہا کہ آج اداروں کے پاس بہترین حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود کام اور کارکردگی میں مطلوبہ بہتری نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق اکثر حکمت عملی اس لیے ناکام ہوجاتی ہے کیونکہ ادارے اس حکمت عملی پر عمل درآمد کے لیے درست انداز میں تشکیل نہیں دیے جاتے۔
ڈومینک نے کہا کہ اداروں میں حکمت عملی اور کارکردگی کے درمیان ایک خلا موجود ہے اور اگر انسانی وسائل سے متعلق نظام حکمت عملی کے مطابق نہ ہوں تو کامیابی ممکن نہیں۔ انہوں نے ایچ آر رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ روایتی ’پیپل لیڈرز‘ کے بجائے ’آرگنائزیشنل آرکیٹیکٹس‘ کا کردار ادا کریں اور انہیں ’چیف ریئلٹی آفیسر‘ بن کر مشکل سوالات اٹھانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایچ آر رہنماؤں کو یہ جانچنا چاہیے کہ ادارے میں حقیقی رہنما موجود ہیں یا ایسے مینیجرز جو حالات کے باعث عہدوں پر پہنچ گئے، انعامات درست رویوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں یا نہیں اور ادارہ مستقبل کی ضروریات کے لیے ملازمین کی صلاحیتیں تیار کررہا ہے یا نہیں۔
ڈومینک نے کہا کہ لوگ ایچ آر کی پالیسیوں کو یاد نہیں رکھتے بلکہ بہترین قیادت کو یاد رکھتے ہیں۔ ملازمین کو ایچ آر کے اقدامات سے زیادہ یہ یاد رہتا ہے کہ کام کی جگہ پر ان کا تجربہ کیسا رہا اور کیا کام نے انہیں آگے بڑھنے میں مدد دی یا بتدریج تھکا دیا۔






