
خلیج اردو
مصر کے اپوزیشن کارکن اور شاعر عبدالرحمن یوسف القرضاوی نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے رواں ماہ معافی دیے جانے کے بعد بیان جاری کردیا۔ عبدالرحمن یوسف نے اپنے پیروکاروں کو یقین دلایا کہ وہ خیریت سے ہیں اور واضح کیا کہ یو اے ای میں حراست کے دوران ان کے ساتھ کسی قسم کی جسمانی یا زبانی بدسلوکی نہیں کی گئی۔
ابوظبی کی وفاقی عدالتِ اپیل کے سائبر کرائمز ڈپارٹمنٹ نے 27 اگست کو عبدالرحمن یوسف کو عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات میں 10 سال قید اور 2 لاکھ درہم جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں عبدالرحمن یوسف نے اپنے خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خاندان نے ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہوکر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حراست کے باوجود ان کے نظریات اور اصول تبدیل نہیں ہوئے اور وہ آج بھی وہی شخص ہیں جو ہمیشہ سے تھے۔
انہوں نے اپنے پیروکاروں سے کچھ عرصے کے لیے غیر حاضر رہنے کی اجازت مانگی اور کہا کہ انہیں صحت یابی اور آرام کے لیے کچھ وقت درکار ہے، جس کے باعث ان کی غیر حاضری کچھ طویل بھی ہوسکتی ہے۔
عبدالرحمن یوسف نے یو اے ای اور صدر شیخ محمد بن زاید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دے کر بحران کو خوش آئند انداز میں ختم کرنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے دیگر صدور سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو معافی دے کر تنازعات کو کئی دہائیوں تک جاری رہنے اور لوگوں کی پوری زندگی جیل میں گزرنے سے روکیں۔
انہوں نے دوران حراست کسی بھی قسم کے نقصان یا بدسلوکی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای میں حراست کے دوران ان کے ساتھ نہ جسمانی اور نہ ہی زبانی زیادتی ہوئی، اور یہ ان کی اپنی گواہی ہے۔
عبدالرحمن یوسف نے ترکی اور صدر رجب طیب اردوان کا بھی بحران کے خاتمے کے لیے کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ترکی کی وزارت خارجہ، سکیورٹی اداروں اور ان شخصیات کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے معاملے کو مثبت انجام تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
عبدالرحمن یوسف القرضاوی مصری اپوزیشن کارکن اور شاعر ہیں اور وہ اخوان المسلمون کے سابق روحانی رہنما یوسف القرضاوی کے بیٹے ہیں۔ وہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف سیاسی سرگرمیوں میں بھی شریک رہے اور بعد میں موجودہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ناقد بن گئے۔ ان کا ادبی سفر 1992 میں پہلے شعری مجموعے کی اشاعت سے شروع ہوا، جبکہ ان کی شاعری میں مصر اور عرب دنیا کے سیاسی و سماجی مسائل نمایاں رہے ہیں۔






