
خلیج اردو
نیویارک، 27 مئی 2025
متنازع مصنف سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے میں ملوث امریکی شہری ہادی ماتر کو عدالت نے 25 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ رشدی نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ حملہ آور کو زیادہ سے زیادہ سزا دی گئی اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ قید کے اس عرصے کو اپنے اعمال پر غور کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
27 سالہ ہادی ماتر نے اگست 2022 میں نیویارک میں ایک تقریب کے دوران اسٹیج پر موجود سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کیا تھا، جس سے رشدی کی دائیں آنکھ ضائع ہوگئی، جگر زخمی ہوا اور بازو کا اعصابی نظام متاثر ہو کر مفلوج ہو گیا تھا۔
رشدی نے اس حملے کے بعد اپنے تجربات کو کتابی صورت میں "چاقو” کے عنوان سے شائع کیا، جسے انہوں نے "جوابی لڑائی کا میرا طریقہ” قرار دیا۔ اس کتاب میں ہادی ماتر کے ساتھ ایک خیالی گفتگو بھی شامل ہے، جسے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے متحرک انداز میں پیش کیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے وقت سلمان رشدی موجود نہیں تھے، تاہم ہادی ماتر نے بیان دیتے ہوئے رشدی کو "منافق” قرار دیا اور کہا کہ وہ آزادی اظہار کی آڑ میں دوسروں کی توہین کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ سلمان رشدی کی کتاب "شیطانی آیات” 1988 میں شائع ہوئی تھی، جسے مسلم دنیا میں توہین مذہب کے طور پر دیکھا گیا۔ 1989 میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی نے رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا تھا، جس کے بعد وہ کئی برس تک روپوش رہے۔
ہادی ماتر پر اس حملے کے علاوہ انٹرویو کرنے والے ہینری ریس پر حملے کا بھی الزام تھا، جس پر انھیں پہلے ہی 10 سال قید کی سزا دی جا چکی تھی۔
رشدی کی زندگی اور کیریئر کا احاطہ کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ وہ بھارت میں پیدا ہوئے، انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی، اور 1981 میں اپنی کتاب "مڈ نائٹ چلڈرن” پر بکر پرائز جیت کر شہرت حاصل کی۔ ان کے دیگر معروف ناولوں میں "شیم”، "دی جیگوار سمائل”، "دی مورز لاسٹ سائی” اور "فیوری” شامل ہیں۔
سلمان رشدی کو 2007 میں برطانیہ کی جانب سے ادب کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں "نائٹ” کا خطاب دیا گیا تھا۔ وہ اب امریکہ میں مقیم ہیں اور بدستور لکھنے کے عمل سے وابستہ ہیں۔






