پاکستانی خبریں

کراچی ملیر جیل سے 216 قیدیوں کا فرار، زلزلے کے دوران ہنگامہ آرائی، فائرنگ، تحقیقات کا آغاز

خلیج اردو
کراچی: کراچی میں رات گئے آنے والے زلزلے کے دوران ملیر جیل میں افراتفری مچ گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر 216 قیدی فرار ہو گئے۔ واقعے میں ایک قیدی ہلاک جبکہ 4 اہلکار، جن میں 2 ایف سی اہلکار شامل ہیں، زخمی ہو گئے۔ انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 78 قیدیوں کو مختلف علاقوں سے گرفتار کر لیا، جبکہ 9 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ملیر جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، رات 12 بج کر 5 منٹ پر زلزلے کے جھٹکوں کے بعد قیدیوں نے بیرکوں میں شور شرابا شروع کیا۔ جب جیل حکام بات چیت کے لیے گئے تو قیدیوں نے ہنگامہ کرتے ہوئے دروازے توڑ ڈالے اور ماڑی گیٹ توڑ کر فرار ہونے لگے۔

ارشد شاہ کے مطابق قیدیوں نے ان پر حملہ بھی کیا، جس کے بعد انہیں روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی، مگر قیدیوں کی بڑی تعداد جیل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ آئی جی جیل خانہ جات قاضی نظیر نے بتایا کہ قیدیوں نے جیل اہلکاروں پر بھی تشدد کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیل توڑنے کے اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملیر جیل سے کوئی خطرناک یا غیر ملکی مجرم فرار نہیں ہوا، تاہم قیدیوں کو بیرکوں سے نکالنا ایک غلطی تھی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے جیل کا دورہ کر کے تفصیلات حاصل کیں اور کہا کہ اب بھی 129 قیدی فرار ہیں، مگر تمام معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جو قیدی 24 گھنٹوں میں واپس آ جائیں گے، ان کے خلاف انکوائری نہیں ہو گی اور سزا میں رعایت دی جائے گی۔

سینئر وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور آئی جی جیل خانہ جات کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ نیا آئی جی آج تعینات کیا جائے گا۔

واقعے کے بعد قیدی کی ایک ماں کی ایمانداری نے عوام کا دل جیت لیا۔ خاتون نے اپنے فرار شدہ بیٹے کو خود جیل واپس لا کر حکام کے حوالے کر دیا۔ وہ پولیس اہلکاروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی رہیں کہ "میرے بیٹے سے غلطی ہوئی، مہربانی کریں اور اسے کچھ نہ کہیں۔” اس ماں کے کردار کو سوشل میڈیا پر بے حد سراہا جا رہا ہے اور عوام نے انہیں ایمانداری کی روشن مثال اور معاشرے کا وقار قرار دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ زلزلے کی بدولت پیدا ہونے والے خوف اور ہنگامے کا فائدہ اٹھا کر قیدیوں نے جیل توڑی۔ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی واقعے کی تفتیش میں مصروف ہیں، اور تمام فرار قیدیوں کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button