پاکستانی خبریں

کم از کم تنخواہ 50 ہزار مقرر کی جائے، پیپلز پارٹی کا بجٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کم از کم تنخواہ 50 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما چودھری منظور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا ہے اور اگر اسے واپس نہ لیا گیا تو ہم ہر حد تک جائیں گے، اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہو گی۔

چودھری منظور نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے گزشتہ ادوارِ حکومت میں ملازمین کو ریلیف دیا، 2008 سے 2010 کے دوران تنخواہوں میں 20، 20 فیصد اور 2011 میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجٹ میں غریب طبقے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگر کسی خاتون کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو موجودہ پالیسی کے تحت وہ خاتون دس سال بعد پنشن کی حقدار نہیں رہے گی، جو سراسر ناانصافی ہے۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر اضافی ٹیکس کے فیصلے کو رجعت پسندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بجائے ٹیکس لگانے کے، عوام کو شمسی توانائی کی طرف راغب کرنا چاہیے تاکہ توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ مزدوروں، پنشنرز اور متوسط طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلے گی، اور عوامی مسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button