
خلیج اردو
واشنگٹن / تہران، 23 جون 2025ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — پر بی-ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے حملے کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ان حملوں کو "کامیاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام طیارے بغیر کسی نقصان کے بحفاظت واپس آ گئے ہیں۔
ٹرمپ نے خطاب میں کہا: "دنیا میں کوئی اور فوج ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ ہمیں بہت بڑی کامیابی ملی ہے اور اب اسرائیل کہیں زیادہ محفوظ ہے۔” انہوں نے ایرانی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ہر صورت امن کی راہ اپنانی ہوگی، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر کے مطابق، "اب یا امن ہوگا یا پھر ایران کے لیے ایک نیا سانحہ۔ اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو آئندہ حملے مزید شدید ہوں گے۔”
امریکی وزیر دفاع نے حملے کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا: "ہم نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کر دیا ہے۔ دنیا کو امریکی صدر کی بات سننا ہو گی۔ امریکا بارہا خبردار کرتا رہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ایران کو مذاکرات کے لیے 60 دن دیے گئے تھے مگر ایران نے اس دوران کسی معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی، اس لیے یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی۔”
ٹرمپ انتظامیہ نے اگلے 48 گھنٹوں کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ممکنہ ردعمل کی صورت میں امریکا بھرپور طاقت سے جواب دے گا اور ہر مزاحمت کو کچل دیا جائے گا۔
امریکی دعوے کے مطابق، ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ "ایران کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں، اسے جوہری توانائی کی کوئی ضرورت نہیں۔”
امریکی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ چکی ہے اور عالمی برادری صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔






