متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں نو عمر بچوں میں بلیچ، ایئرفریشنرز سونگھنے کا رجحان، سوشل میڈیا پر "محفوظ نشہ” کے نام پر گمراہ کن رحجان

خلیج اردو
ابوظبی:ورلڈ ڈرگ ڈے کے موقع پر ماہرین نے متحدہ عرب امارات میں ایک خطرناک اور تیزی سے پھیلتے ہوئے رجحان پر خبردار کیا ہے — نوجوانوں میں روایتی نشہ آور اشیاء کے بجائے روزمرہ کے گھریلو مصنوعات کو سونگھ کر "محفوظ نشہ” حاصل کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان۔

نیشنل ری ہیبلیٹیشن سینٹر کے سی ای او یوسف الذیب الکتبی نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کے نوجوان صرف ممنوعہ ادویات ہی نہیں، بلکہ ایئرفریشنرز، بلیچ، اور اسپرے جیسی اشیاء کو سونگھ کر نشے کی کیفیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں — اور اکثر یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے ذریعے سیکھتے ہیں۔

الکتبی نے کہا کہ یہ مواد بظاہر معصوم یا مزاحیہ لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ "ایسی زہریلی اشیاء کو سونگھنا دماغ، دل اور اعصابی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، اور اچانک موت کا سبب بھی بن سکتا ہے،” انہوں نے کہا۔

یہ عمل اکثر آن لائن توجہ حاصل کرنے، کم خوداعتمادی، یا ساتھیوں کے دباؤ کی وجہ سے کیا جاتا ہے، اور چونکہ نوجوان ان حرکات کو ‘نشہ’ نہیں سمجھتے، اس لیے ابتدائی تشخیص بہت مشکل ہو جاتی ہے۔

NRC کے مطابق اُن کی حکمت عملی نوجوانوں کے رویوں کو سمجھنے اور ان کے مطابق مؤثر انداز میں پیغام پہنچانے پر مبنی ہے۔ الکتبی نے کہا: "ہم صرف یہ نہیں کہتے کہ کیا نہ کریں — ہم یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیوں نہ کریں، اور وہ بھی ایسی زبان میں جو نوجوانوں کو سمجھ آتی ہے۔”

سینٹر سوشل میڈیا پر خطرناک رجحانات کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور ان کے ردعمل میں فوری طور پر ماہرین کی رہنمائی میں آگاہی مہمات، ویڈیوز، اور اسکولوں میں تربیتی سیشنز کا انعقاد کرتا ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچے بہت کم عمری میں موبائل فون استعمال کرنے لگتے ہیں، جس سے وہ نشہ آور مواد یا غلط افراد تک پہنچ سکتے ہیں۔ NRC نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل سیفٹی پروگرامز ترتیب دیے ہیں، جن کے ذریعے نوجوانوں کو سکھایا جاتا ہے کہ مشکوک نمبرز کی نشاندہی کیسے کریں، نامناسب پیغامات کو کیسے رپورٹ کریں، اور کس طرح آن لائن خود کو محفوظ رکھیں۔

NRC والدین اور اساتذہ کی تربیت پر بھی زور دے رہا ہے تاکہ وہ نہ صرف نشے کے ابتدائی آثار پہچان سکیں بلکہ بروقت مداخلت بھی کر سکیں۔ سال 2025 میں 60 سے زائد اساتذہ کو اس مقصد کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

"سچی روک تھام تب شروع ہوتی ہے جب خطرناک رویے ظاہر ہونے سے پہلے ان سے بچاؤ کے لیے ذہنی پختگی، جذباتی فہم، اور بہتر ابلاغ کی تربیت دی جائے،” الکتبی نے کہا۔

انہوں نے زور دیا کہ والدین بچوں سے غیرجانبدار اور کھلے دل سے بات کریں۔ چاہے ان کے پاس کوئی باضابطہ تربیت نہ ہو، لیکن صرف ان کی موجودگی اور دلچسپی بچوں کے لیے ایک مضبوط دفاعی دیوار کا کردار ادا کرتی ہے۔

NRC اسکولوں میں کہانیوں، مباحثوں اور نوجوانوں کے پسندیدہ فارمیٹس کے ذریعے آگاہی مہمات چلاتا ہے تاکہ پیغام مؤثر انداز میں پہنچے۔ الکتبی نے اس موقع پر زور دیا کہ ملک میں ایسی قومی ثقافت پروان چڑھائی جائے جو نشے، ذہنی صحت، اور جذباتی مسائل پر کھل کر بات کرنے کی حوصلہ افزائی کرے۔

"ہمیں ایک ایسی معاشرتی سوچ کی ضرورت ہے جو ذہنی صحت اور نشہ جیسے حساس موضوعات پر خاموش نہ رہے۔ بدنامی ختم کرنا، بحالی کی اصل کہانیاں شیئر کرنا، اور ابتدائی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے،” انہوں نے کہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button