پاکستانی خبریں

بارش کے طوفانی سپیل نے لاہور کو ڈبو دیا، نظام زندگی مفلوج، بجلی کا ترسیلی نظام متاثر

خلیج اردو
لاہور، 10 جولائی 2025:
لاہور میں موسلا دھار بارش کے طوفانی سپیل نے شہر کو وینس کا منظر بنا دیا، مسلسل سات گھنٹے جاری رہنے والی بارش کے باعث ہر طرف پانی ہی پانی دکھائی دیا۔ سب سے زیادہ 180 ملی میٹر بارش گارڈن ٹاؤن میں ریکارڈ کی گئی، نشتر ٹاؤن میں 178 ملی میٹر، جبکہ لکشمی چوک، گڑھی شاہو، مال روڈ، سول سیکرٹریٹ، جوہر ٹاؤن، ٹھوکر نیاز بیگ اور کاہنہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی شدید پانی جمع ہو گیا۔

بارش کے بعد شہر کا نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔ بجلی کا ترسیلی نظام بری طرح متاثر ہوا اور 260 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس کے باعث کئی علاقے بجلی سے محروم ہو گئے۔ یکی گیٹ میں کرنٹ لگنے سے ایک بچہ جاں بحق ہو گیا۔ جناح ہسپتال اور جنرل ہسپتال کے داخلی راستوں پر پانی جمع ہو گیا، جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہسپتال کے کئی کمروں کی چھتوں سے بھی پانی ٹپکنے لگا۔

اس صورتحال پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واسا کے اہلکاروں کو موسلا دھار بارش میں خدمات انجام دینے پر شاباش دی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی حالات میں واسا ٹیموں کی فوری کارروائی قابلِ تحسین ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ شدید بارش کے باوجود لاہور کی اہم سڑکیں، انڈرپاسز اور راستے مکمل طور پر کلیئر رہے۔ ان کے مطابق واسا ٹیموں نے بغیر تاخیر فیلڈ میں نکاسی کا کام برق رفتاری سے مکمل کیا، اور عوام بلا رکاوٹ اپنے معمولات زندگی انجام دیتے رہے۔

دوسری طرف پنجاب، بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے درجنوں اضلاع میں شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، متعدد حادثات میں اب تک 8 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

پنجاب کے مختلف اضلاع جیسے راولپنڈی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، تلہ گنگ، کوٹ مومن، بورے والا، گجرات، چنیوٹ اور قصور میں موسلا دھار بارش سے گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہو گیا۔ مری کے ندی نالوں میں طغیانی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

میاں چنوں میں گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 10 افراد زخمی ہوئے۔ ڈیرہ غازی خان کے علاقے زندہ پیر میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا، فورٹ منرو اور کوٹ چھٹہ میں کرنٹ لگنے سے مزید دو افراد جاں بحق ہوئے۔

بلوچستان کے علاقے بسیمہ میں درمن ندی میں ایک شخص ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ سندھ کے شہر حیدرآباد کی شاہ لطیف کالونی میں دو بچے نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے۔ چارسدہ میں بھی بارش نے تباہی مچا دی ہے۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور گرد و نواح میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث وادی نیلم کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کامسر کے مقام پر بند ہو گئی ہے۔ چلاس کے علاقے بابوسر میں 9 گھر زمین بوس ہو گئے جبکہ دیامر میں بارش سے فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے، شاہراہِ قراقرم بند ہونے سے ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہے۔

متعدد علاقوں میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 13 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ہیں۔ عوام سے محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button