
خلیج اردو
اسلام آباد — پاکستان نے رواں سال بھارت میں ہونے والے دو بڑے ہاکی ایونٹس، ایشین ہاکی کپ اور ایف آئی ایچ ہاکی جونیئر ورلڈ کپ میں شرکت سے قبل بھارتی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت، جو ان دونوں عالمی ایونٹس کی میزبانی کرے گا، پاکستان کی ممکنہ شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر میڈیا رپورٹس پر یقین کیا جائے تو پاکستانی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے یوتھ ڈیولپمنٹ اینڈ اسپورٹس پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے ہندوستانی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا:
"پاکستانی شہریوں کے لیے بھارت میں سیکیورٹی صورتحال کا مکمل جائزہ لیا جائے گا، اور اگر حکومت مطمئن نہ ہوئی تو کھلاڑیوں کو خطرے میں ڈال کر بھارت نہیں بھیجا جائے گا۔”
ایونٹس کی تفصیلات
-
ایشین ہاکی کپ: یہ ایونٹ اگلے سال ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ ہے، جو 27 اگست سے 7 ستمبر تک ریاست بہار کے شہر راجگیر میں منعقد ہوگا۔
-
ایف آئی ایچ ہاکی جونیئر ورلڈ کپ: 24 ٹیموں پر مشتمل یہ عالمی مقابلہ چنئی اور مدورائی میں 28 نومبر سے 10 دسمبر تک منعقد ہوگا۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کھیلوں پر بھی اثرانداز ہوتی رہی ہے۔ ماضی میں کرکٹ ہو یا دیگر کھیل، دونوں ممالک کے درمیان مقابلے صرف عالمی ٹورنامنٹس تک محدود ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد دونوں ممالک میں تناؤ مزید بڑھ گیا۔ اس حملے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے، اور بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ‘آپریشن سندور’ کے نام سے جوابی کارروائی کی۔ چار دن تک جاری کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی ٹیم بھارت کے حالات کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور آیا پاکستانی ٹیمیں ان ایونٹس میں شرکت کریں گی یا نہیں۔






