
خلیج اردو
لورالائی: بلوچستان میں دہشتگردوں نے ایک بار پھر ظلم کی نئی داستان رقم کر دی۔ کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو مسافر کوچز کو این-70 ہائی وے کے قریب روکا گیا، جہاں شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد 9 مسافروں کو اغوا کرکے شہید کر دیا گیا۔
واقعہ لورالائی کے قریب پیش آیا جہاں دہشتگردوں نے اندھیرے میں کارروائی کرتے ہوئے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر شناخت کے بعد اغوا کیا اور کچھ ہی فاصلے پر لے جا کر گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ واردات کے بعد دہشتگرد تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔
شہداء کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے تھا جن میں لاہور، گجرات، میاں چنوں، گوجرانوالہ، لودھراں اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔شہداء کی شناخت درج ذیل ہے: ڈیرہ غازی خان کے محمد عرفان اور محمد آصف، گوجرانوالہ کے صابر حسین، میاں چنوں کے غلام سعید، لاہور کے محمد جنید، گجرات کے بلاول،
اور اٹک کے محمد بلال شامل ہیں۔
شہید ہونے والوں میں دنیاپور سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی عثمان طور اور جابر طور بھی شامل ہیں، جو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
دونوں بھائی کوئٹہ میں طویل عرصے سے روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے، مگر دہشتگردوں نے ان کا سفرِ غم ابدی سفر میں بدل دیا۔ نماز جنازہ میں سرکاری حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شہداء کے بڑے بھائی صابر طور نے غم سے نڈھال ہو کر کہا: "والد کے جنازے پر جانے والے دو بھائیوں کے اپنے جنازے اٹھ گئے، ہمارے گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔”
گجرات کے نواحی گاؤں ویرووال سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ بلاول بھی شہداء میں شامل تھے، جو نوکری کی تلاش میں دوست کے مشورے پر کوئٹہ گئے تھے اور حال ہی میں دبئی سے واپس آئے تھے۔ شہید بلاول چار بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔
خانیوال کے غلام سعید، جو پاک فوج میں بطور سپاہی خدمات سرانجام دے رہے تھے، بھی دہشتگردوں کا نشانہ بنے۔ ان کی شہادت پر علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔
کامونکی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ صابر، جو کھانا پکانے کا کام کرتے تھے اور لورالائی سے گھر واپس آ رہے تھے، بھی سفاکانہ دہشتگردی کا شکار ہو گئے۔
صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ بلوچستان، وزیر اعلیٰ سندھ سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر نے فتنہ الہندُوستان کو پاکستان میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا، جبکہ وزیر اعظم نے کہا کہ قوم اتحاد، عزم اور طاقت کے ساتھ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاک عمل ہے اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگردوں کا تعاقب ہر جگہ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں آئی جی پولیس نے واقعے پر بریفنگ دی، اور وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایت دی کہ ملوث دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، ان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے دہشتگردی کے اس واقعے کو بھارت کی کھلی درندگی قرار دیا، اور کہا کہ یہ ماضی کے ان ہی واقعات کا تسلسل ہے جن کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پھیلانا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ بھارت کھلی جنگ میں شکست کے بعد اب پراکسیز کے ذریعے نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی بھارت کے "آپریشن سندور” کا تسلسل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی تنظیمیں بھارت کی پراکسیز کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں، جن کے ٹھکانے ہمسایہ ممالک میں موجود ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کی سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہو تاکہ اس جنگ کو فیصلہ کن انداز میں جیتا جا سکے۔






