ٹپس

دبئی کا نیا درجہ بندی نظام: تخلیقی مواد میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت پر شفافیت کا نیا باب

خلیج اردو
دبئی: 21 جولائی
دبئی میں تخلیقی مواد کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (AI) کے کردار کو واضح کرنے کے لیے ایک انوکھا اور شفاف درجہ بندی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جسے ماہرین "AI کے داغ کو ختم کرنے” کی سمت ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس نظام کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی مواد میں انسان اور مشین کی شراکت کس حد تک ہے۔

دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد کی منظوری سے متعارف کیے گئے اس ہیومن–مشین کولیبوریشن (HMC) سسٹم میں مختلف آئیکنز اور ٹیگز کے ذریعے بتایا جائے گا کہ مواد کی تیاری — جیسے آئیڈیے دینا، تحریر، ڈیزائن یا دیگر مراحل — میں انسان اور AI کا کتنا کردار رہا۔

پانچ آئیکنز، نو ٹیگز

اس نظام میں پانچ بنیادی آئیکنز شامل ہیں، جو "مکمل انسانی تخلیق” سے لے کر "مکمل مشینی تخلیق” تک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی نو فنکشنل ٹیگز یہ واضح کرتے ہیں کہ مواد کے کس مرحلے میں AI کی مدد لی گئی۔

ایمانداری سے تخلیق کی حوصلہ افزائی

اومورفیا گروپ کی مارکیٹنگ اسپیشلسٹ عبیر فیصل نے کہا، "یہ نظام تخلیق کاروں کو ایمانداری سے بتانے کا موقع دیتا ہے کہ AI کا کردار کہاں تک رہا۔ یہ اعتراف تخلیق کی قدر کو کم نہیں کرتا، بلکہ اسے مزید نکھارتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی درجہ بندی تخلیقی معیار میں بہتری لانے میں بھی مددگار ہو سکتی ہے۔ "یہ ہمیں سوچ کر تخلیق کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور یہ عمل خود کام کے معیار کو بلند کرتا ہے۔”

عبیر کا ماننا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر پوسٹس کے ساتھ یہ لیبلز آنا شروع ہو جائیں تو لوگ انہیں سنجیدگی سے دیکھیں گے۔ "اگر کوئی جذباتی یا کہانی پر مبنی پوسٹ ’مشین لیڈ‘ کہلائے، تو اس سے جُڑاؤ کم ہو سکتا ہے، لیکن اگر کوئی ڈیٹا پر مبنی مواد ہو اور اسے مشین سے جوڑا جائے تو یہ دیانتداری سمجھی جائے گی۔”

شفافیت کا عہد

سینئر کمیونیکیشن اسپیشلسٹ روان خلیفہ نے اس اقدام کو شفافیت سے وابستگی قرار دیا۔ ان کے مطابق، "AI کا کردار بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمیں سوچنے، سمجھنے اور سیاق و سباق کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔”

انہوں نے کہا کہ مکمل خودکار نظاموں پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔ "کسی بھی تحریر کے پیچھے انسانی فہم، جذبات اور سیاق کی ضرورت ہوتی ہے، جو محض ایک پرامپٹ سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ روان نے خود اس انٹرویو کے دوران اپنا بیان AI کی مدد سے بہتر کیا، لیکن اسے تبدیل نہیں کیا۔ ان کے بقول، "یہ صرف شفافیت کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے کام کی سچائی اور وقار کا تحفظ بھی ہے۔”

تجارتی اداروں میں ہچکچاہٹ ممکن

ڈیجیٹل اسٹریٹجسٹ ندین السویدی نے خیال ظاہر کیا کہ اگرچہ یہ اقدام مثبت ہے، لیکن تجارتی ماحول میں اس کی فوری اپنائیت شاید نہ ہو۔ ان کے مطابق، "مشین اسسٹڈ اور مشین لیڈ کے درمیان فرق بعض اوقات مبہم ہوتا ہے، اور جب تک کلائنٹس یا ریگولیٹرز کی طرف سے دباؤ نہ ہو، برانڈز یہ لیبل لگانے میں ہچکچائیں گے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نظام سرکاری یا علمی اداروں کے لیے زیادہ موزوں ہے، جہاں دستاویزی شفافیت ضروری ہوتی ہے، لیکن نجی کمپنیاں سادگی اور تیزی کو ترجیح دیتی ہیں۔

عمل درآمد کا آغاز

یہ درجہ بندی نظام فی الحال اختیاری ہے، تاہم ولی عہد شیخ حمدان نے ہدایت دی ہے کہ دبئی حکومت کے ادارے تحقیق اور علمی مواد میں اس کا استعمال شروع کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button