عالمی خبریں

ڈھاکہ: بنگلہ دیش ایئرفورس کا جنگی طیارہ اسکول پر گر کر تباہ، کم از کم 20 افراد جاں بحق، 170 سے زائد زخمی

خلیج اردو
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی فضائیہ کا چینی ساختہ ایف-7 بی جی آئی جنگی طیارہ پیر کے روز دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک اسکول پر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 170 سے زائد زخمی ہوگئے۔

حادثہ ڈھاکہ کے علاقے اُتّرا میں واقع میل اسٹون اسکول اینڈ کالج میں پیش آیا، جہاں کلاسز کے بعد طلبہ اسکول سے نکل رہے تھے۔ حادثے کے وقت طیارہ تربیتی مشن پر تھا اور پرواز کے چند لمحوں بعد ہی گر کر اسکول کی عمارت سے ٹکرا گیا، جس سے شدید دھماکہ اور آگ بھڑک اٹھی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد شدید آگ لگی اور عمارت کے حصے منہدم ہوگئے۔ فوجی اہلکاروں نے جائے حادثہ پر امدادی کاموں میں حصہ لیا جبکہ ریسکیو ٹیمیں متاثرین کو اسٹریچر پر اسپتال منتقل کرتی رہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زیادہ تر زخمی بچوں کی عمریں 8 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال کے برن یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر بیدھان سرکر نے بتایا کہ ’’ایک تیسری جماعت کے طالبعلم کی لاش لائی گئی، جبکہ تین دیگر زخمی بچوں کو داخل کیا گیا جن کی عمریں 12، 14 اور 40 برس ہیں۔‘‘

فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پائلٹ نے شہری آبادی سے طیارے کو دور لے جانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم میکانیکی خرابی کے باعث طیارہ اسکول سے ٹکرا گیا۔‘‘ حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

نگران وزیرِاعظم محمد یونس نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قومی سطح پر منگل کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایئرفورس، طلبہ، اساتذہ اور متاثرہ خاندانوں کو جو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے، وہ پوری قوم کا دکھ ہے۔‘‘

وزیراعظم بھارت نریندر مودی نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔‘‘

یہ حادثہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے ہولناک فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے 1984 کے تباہ کن حادثے کی یاد تازہ کر دی، جب چٹاگانگ سے ڈھاکہ آنے والا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا اور 49 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button