
خلیج اردو
سوات: سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں واقع ایک غیر رجسٹرڈ دینی مدرسے میں 12 سالہ طالبعلم فرحان مبینہ طور پر اساتذہ کے تشدد سے جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے مدرسہ سیل کر کے وہاں زیر تعلیم 160 طلبا کو والدین کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے بچے کے چچا کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے مدرسے کے مہتمم، ان کے بیٹے اور ناظم سمیت 11 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دو ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ 21 جولائی کو پیش آیا جب فرحان کے چچا نے مدرسے کے انتظامیہ سے ملاقات کے بعد بچے کو واپس مدرسے چھوڑا۔ چند گھنٹوں بعد مدرسے کے ناظم نے اطلاع دی کہ فرحان غسل خانے میں گر کر جاں بحق ہو گیا ہے۔ لواحقین کے مطابق جب وہ اسپتال پہنچے تو بچے کے چہرے کے علاوہ پورے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مہتمم اور دیگر ملزمان نے فرحان پر لاٹھیوں اور زنجیروں سے بدترین تشدد کیا۔ پولیس نے مدرسے سے تشدد میں استعمال ہونے والی لاٹھیاں اور زنجیریں بھی برآمد کر لی ہیں۔
ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے مطابق مقدمہ قتل، تشدد اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مدرسے کے دیگر بچوں پر بھی جسمانی تشدد کے شواہد ملنے پر پولیس نے ایک اور مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مدرسے کو سرکاری طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف کارروائی کے لیے فہرست مرتب کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مدرسوں پر چیک اینڈ بیلنس کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے







