
خلیج اردو
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے، اب فیصلہ بھارت کو کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے کسی مس ایڈونچر کی کوشش کی تو پاکستان بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان پُرامن سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف امن، قانون اور اصولوں پر مبنی ہے، سفارتکاری کسی پر احسان نہیں بلکہ دوطرفہ مفادات کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے امریکا کے حالیہ کشیدگی کم کرانے کے کردار کو سراہا اور کہا کہ علاقائی استحکام اور عالمی امن سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورہ افغانستان کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ ملاقاتوں سے باہمی تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے، افغان فریق نے پاکستان کے تحفظات پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری مذاکرات کا معاملہ بھی سفارتکاری سے ہی حل ہونا چاہیے اور ایرانی صدر کے متوقع دورہ پاکستان کے دوران گیس پائپ لائن سمیت دیگر معاملات پر بات چیت ہوگی۔
دریں اثنا، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں بینکاری، سرمایہ کاری اور آئی ٹی ماہرین سے ملاقات میں ملکی معیشت کی بہتری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایس آئی ایس ایف کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس ہوا ہے جو معیشت کی بحالی کا واضح اشارہ ہے۔







