
خلیج اردو
واشنگٹن/پیرس: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "غیر ذمہ دارانہ فیصلہ” قرار دیا ہے۔ روبیو نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف حماس کی پروپیگنڈا مشینری کو تقویت دے گا اور امن عمل کو نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 7 اکتوبر کے متاثرین کے منہ پر طمانچہ ہے”۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ان کا ملک ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ فرانس ایسا اقدام کرنے والا یورپ کا سب سے طاقتور ملک ہوگا۔
فرانس کے اس اعلان پر اسرائیل نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ یہ فیصلہ "دہشتگردی کو انعام دینے کے مترادف ہے” اور اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ ہے۔ نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے "ایک اور ایرانی پراکسی پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جیسے غزہ بنا، جو اسرائیل کو مٹانے کے لیے لانچ پیڈ ہوگا، نہ کہ اس کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے لیے”۔
دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے سینئر رہنما حسین الشیخ نے فرانس کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی قانون اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا مظہر ہے۔ حماس نے بھی میکرون کے اعلان کو "ہمارے مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ انصاف کی جانب مثبت قدم” قرار دیا اور دنیا بھر کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فرانس کے نقش قدم پر چلیں۔
صدر میکرون نے زور دیا کہ "آج کی فوری ترجیح غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور شہری آبادی کو بچانا ہے۔” انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کی تعمیر اور اس کی قابل عمل حیثیت کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی غیر عسکری حیثیت کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرے اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے قیام میں کردار ادا کر سکے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں نے فرانس کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیا۔ محمود الافرنجي نے اسے "اخلاقی عہد” اور فلسطینی عوام کی "سیاسی فتح” قرار دیا، جبکہ ناہد ابو طائمہ نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے خطے میں امن کی راہ ہموار ہوگی۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کو جرمن اور فرانسیسی ہم منصبوں کے ساتھ جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے اعتراف پر بات چیت کریں گے۔ اسٹارمر نے کہا کہ جنگ بندی ہی فلسطینی ریاست کے اعتراف کی راہ ہموار کرے گی۔
ناروے، اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے میکرون کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "دو ریاستی حل ہی واحد حل ہے۔”
سعودی عرب نے بھی میکرون کے اعلان کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اس اقدام کی پیروی کریں۔ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ سائمن ہیرس نے فرانس کے فیصلے کو "امن و سلامتی کے قیام کی واحد دیرپا بنیاد” قرار دیا۔
یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 59,587 فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں، جبکہ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,219 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔






