عالمی خبریں

روس میں زلزلے اور سونامی الرٹ کے بعد متحدہ عرب امارات کے سیاحوں نے منصوبے منسوخ کر دیے، محفوظ علاقوں کی طرف انخلا

خلیج اردو
روس کے مشرقی علاقے کامچاٹکا میں بدھ کے روز آنے والے 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد دنیا بھر میں سونامی الرٹ جاری کر دیے گئے جس کے نتیجے میں جاپان اور امریکہ سمیت متعدد ساحلی علاقوں میں انخلا کا عمل شروع ہوا۔ بعد ازاں دن کے اوقات میں بعض ممالک نے ان الرٹس کو کم کر دیا۔

کامچاٹکا کی رہائشی ڈاریا ڈوڈیکو نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں نائٹ ڈریس میں تھیں جب اچانک زلزلہ آیا اور فوراً بعد سائرن بجنے لگے۔ "یہ میری زندگی کا سب سے شدید زلزلہ تھا، پورا علاقہ خوفزدہ ہو کر باہر نکل آیا۔ سائرن کا مطلب تھا کہ سونامی کا خطرہ ہے، اس لیے سب لوگ بلند مقامات کی طرف دوڑ پڑے۔”

ڈاریا نے بتایا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے "ڈاچا” (دیہی سمر ہاؤس) میں قیام کریں گی، کیونکہ شہر کے زیادہ تر لوگ اسی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "1952 کے بعد یہ پہلا بڑا زلزلہ تھا جب 15 میٹر بلند سونامی کی لہروں نے کئی بستیوں کو تباہ کر دیا تھا۔ خوش قسمتی سے اس بار ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور سونامی کی بڑی لہر ہمیں نقصان پہنچائے بغیر گزر گئی۔”

دوسری جانب اماراتی شہری ام عبدالرحمٰن، جو اس وقت شنگھائی میں اپنے خاندان کے 12 افراد کے ساتھ موجود تھیں، نے بتایا کہ سونامی اور طوفانی بارشوں کی اطلاعات ملتے ہی انہوں نے اپنے تمام منصوبے منسوخ کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے چڑیا گھر جانے کا پروگرام بنایا تھا، مگر موسم کی شدت دیکھتے ہوئے اسے منسوخ کر دیا اور زیر زمین مارکیٹس میں خریداری کے بعد سیدھا ہوٹل واپس چلے گئے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا علاقہ زیادہ متاثر نہیں ہوا مگر احتیاطاً وہ تمام دن محفوظ مقام پر رہے۔ "شنگھائی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلاء ہو رہا تھا، ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارا علاقہ محفوظ رہا۔”

نیوزی لینڈ میں مقیم سابق دبئی رہائشی افضال حسین نے بتایا کہ انہیں کام کے دوران موبائل پر سونامی ایڈوائزری موصول ہوئی۔ شہر میں دن بھر تیز بارش اور آندھی جاری رہی۔ "میری بیٹی اسکول کے بعد قریبی دوست کے گھر تھی، اس لیے میں جلدی دفتر سے نکلا تاکہ اسے لے کر گھر جا سکوں۔”

افضال کے مطابق نیوزی لینڈ میں اس نوعیت کی ایڈوائزری معمول کی بات ہے اور عام طور پر کسی بڑے انخلا کی ضرورت نہیں پڑتی۔ "ایسے موقعوں پر ہم زیادہ باہر نہیں نکلتے، اور اس دن بھی باقی دن گھر پر گزارا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button