
خلیج اردو
اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ کسی فیلڈ مارشل نے کسی صحافی کو انٹرویو نہیں دیا۔ سہیل وڑائچ کے جس کالم کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ دراصل برسلز کے ایک ایونٹ سے متعلق ہے، جہاں سینکڑوں افراد نے تصاویر بنوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ میں نہ پی ٹی آئی کا ذکر ہوا اور نہ ہی کسی معافی کی بات ہوئی، یہ محض ایک صحافی کی ذاتی مفاد اور تشہیر حاصل کرنے کی کوشش تھی، جو ایک نامناسب حرکت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص غیر قانونی حرکت کرے گا، اسے قانون کے کٹہرے میں آنا ہوگا۔ ہم نے واضح کہا ہے کہ اداروں کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایک سینئر صحافی نے بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ فوج ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا خیال تھا کہ وہ پاکستانی فوج کو آسانی سے بدنام کردے گا لیکن پاکستان کے بھرپور جواب نے الٹا بھارت کی اپنی پراکسیز اور ملک کو ڈس کریڈٹ کر دیا۔ کسی سیانے نے کہا تھا کہ بھارت کے پاس اربوں ڈالر کا اسلحہ ہے اور وہ پاکستان کو شکست دے سکتا ہے، یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کو پاکستان پر حملہ کر دینا چاہئے، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ محض دعوے تھے۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوج کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مقدمہ ہے۔ فوج کا مؤقف پہلے دن سے واضح ہے کہ اس واقعے میں ملوث ہر کردار کو جواب دینا ہوگا۔ 9 مئی کے ذمہ داران میں ماسٹر مائنڈز، سہولت کار اور منصوبہ ساز سب شامل ہیں اور صرف معافی مانگنے سے قانونی عمل نہیں رکے گا۔






