
خلیج اردو
کویت: وزارت انصاف کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق کویت میں طلاق کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں 2025 کی پہلی ششماہی میں تقریباً ہر دو میں سے ایک شادی ختم ہو گئی۔
جنوری سے جون تک 6,968 شادی کے معاہدے رجسٹر ہوئے جبکہ اسی عرصے میں 3,661 طلاقیں بھی ہوئیں، یعنی اوسطاً روزانہ 20 طلاقیں۔ اس کے علاوہ 478 جوڑوں نے طلاق کے بعد صلح بھی کر لی۔
اعدادوشمار کے مطابق زیادہ تر شادیاں کویتی شہریوں کے درمیان ہوئیں، جن کی تعداد 5,112 یعنی 73.4 فیصد تھی۔ طلاقوں میں بھی سب سے زیادہ یعنی 2,198 کیسز کویتی مردوں اور خواتین کے درمیان ریکارڈ ہوئے۔
مزید یہ کہ 535 طلاقیں اس وقت ہوئیں جب شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا، جبکہ 330 طلاقیں شادی کے مکمل ہونے سے پہلے ہی دائر کر دی گئیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 74.2 فیصد طلاقیں مصالحتی منظوری کے ذریعے طے ہوئیں، جنہیں عدالت کے فیصلے کی ضرورت نہیں پڑی، جبکہ صرف 18.5 فیصد کیسز عدالت میں نمٹائے گئے۔
ماہرین قانون کے مطابق یہ رجحان نظام میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ وکیل انعام حیدر نے زور دیا کہ شادی سے پہلے مشاورت لازمی کی جائے، خاص طور پر مخلوط شادیوں میں۔ وکیل اسراء الحداد نے بھی فیملی ری کنسیلی ایشن دفاتر کو مزید اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تاکہ نان نفقہ، رہائش اور بچوں کی کفالت جیسے معاملات فوری طور پر حل ہو سکیں۔
—
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کی ایک **مختصر انفографک کے نکات** بنا دوں جو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا سکے؟







