عالمی خبریں

برطانوی شاہی خاندان کی موسیقار شہزادی 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

خلیج اردو
لندن: برطانیہ کی ڈچس آف کینٹ، جو ویمبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ سے وابستگی اور ایک پرائمری اسکول میں خفیہ طور پر موسیقی کی تدریس کے باعث جانی جاتی تھیں، 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ بکنگھم پیلس نے جمعے کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔

ڈچس، جو ایک ماہر پِیانو نواز، آرگنسٹ اور گلوکارہ تھیں، یارکشائر کے ایک اشرافیہ گھرانے میں کیتھرین ورسلی کے نام سے پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1961 میں پرنس ایڈورڈ، ڈیوک آف کینٹ سے شادی کی جو ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے چچا زاد بھائی ہیں اور اب بھی شاہی خاندان کے سرگرم رکن ہیں۔

شاہی جوڑا عملی طور پر الگ زندگی گزارتا رہا لیکن انہوں نے کبھی طلاق نہیں لی۔ ان کے تین بچے ہیں۔

شاہی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بادشاہ، ملکہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد ڈیوک آف کینٹ اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر ڈچس کی خدمات، موسیقی سے ان کی وابستگی اور نوجوانوں کے ساتھ ان کے جذبہ ہمدردی کو یاد کرتے ہیں۔

ڈچس نے 1994 میں کیتھولک مذہب اختیار کیا اور ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد شاہی خاندان کی سب سے معمر رکن بن گئیں۔ وہ طویل عرصے تک ویمبلڈن کے فاتحین کو ٹرافیاں پیش کرتی رہیں اور 1993 میں کھلاڑی جانا نووٹنا کو ہر دلگیر لمحے میں تسلی دینے پر یاد رکھی گئیں۔

2002 میں شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے خفیہ طور پر 13 برس تک شمال مشرقی انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں موسیقی کی تعلیم دی جہاں صرف ہیڈ ماسٹر کو ان کی اصل شناخت معلوم تھی۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈچس نے ہر کام میں ہمدردی، وقار اور انسانیت کا پہلو اجاگر کیا۔ آرچ بشپ آف یارک اسٹیفن کاٹریل نے بھی انہیں بچوں اور نوجوانوں کی فلاح کی علمبردار قرار دیا۔

بکنگھم پیلس کے مطابق ڈچس کا انتقال جمعرات کی شب کینسنگٹن پیلس میں اہلِ خانہ کے درمیان ہوا۔ ان کی وفات پر بکنگھم پیلس پر برطانیہ کا پرچم سرنگوں کردیا گیا۔

British Duchess of Kent, known for her music teaching and Wimbledon presence, dies aged 92

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button