عالمی خبریں

فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی عالمی ضمیر کا داغ، غزہ میں نسل کشی بند کی جائے، شہباز شریف

خلیج اردو
نیویارک: اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی عالمی ضمیر پر داغ ہے اور غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی جاری ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، اس لیے غزہ میں فوری جنگ بندی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام 80 سال سے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاروں کی جارحیت جاری ہے جبکہ غزہ میں عورتیں اور بچے فوجی درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب سے چھوٹا تابوت اٹھانا سب سے زیادہ بھاری ہوتا ہے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے مسلم سربراہان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کو غزہ میں جنگ بندی کی نئی امید قرار دیا اور قطر پر اسرائیلی حملے کی بھی مذمت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیامِ امن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت نہ ہوتی تو پاک بھارت کشیدگی کے نتائج تباہ کن ہوتے۔ پاکستان نے امن کی کوششوں کے اعتراف میں صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائداعظم کے وژن کی رہنمائی میں پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے اور ہم تنازعات کے پرامن حل میں ڈائیلاگ اور سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں۔

وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں واضح الفاظ میں کہا کہ "جنگ ہم جیت چکے ہیں… اب امن کے خواہش مند ہیں” اور دعویٰ کیا کہ مئی میں مشرقی محاذ پر بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جس سے کنٹرول لائن پر چھ سالہ بچہ ارتضیٰ شہید ہوا، اور کہا پاکستان نے اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت خود کا دفاع کیا جس میں مسلح افواج نے بہادری دکھائی اور ایئر فورس نے دشمن کے متعدد طیارے مار گرائے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کو ’’اشتعال انگیز کے بجائے فعال قیادت‘‘ کی ضرورت بتائی۔

شہباز شریف نے پانی کے معاملے کو قومی حیات کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان اپنی آبادی کے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ناقابلِ قبول ہے اور اس کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم کے خطاب کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے ڈائیلاگ اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، فلسطین کے معاملے میں 1967 کی حدود کے مطابق ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، اور اپنے دفاع اور بحال ہونے والے حقوق کے لیے مضبوط موقف اختیار کرے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button