متحدہ عرب امارات

دبئی کے وہ تین شہری جو سیاحوں کے ہر دورے کو یادگار بناتے ہیں

خلیج اردو
دبئی: دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کے لیے دبئی اپنی دلکش عمارتوں، جدید سہولیات اور ثقافتی ورثے کے باعث پرکشش ہے، مگر اس کامیابی کے پیچھے وہ عام لوگ ہیں جو سیاحوں کے ہر سفر کو خاص اور خوشگوار بناتے ہیں۔ عالمی یوم سیاحت (27 ستمبر) کے موقع پر ان گمنام ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

محمد شفی، جو سات برسوں سے دبئی کی گلیوں میں سیاحوں کی مسکراہٹیں اپنے کیمرے میں قید کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "یو اے ای نے مجھے فوٹوگرافی کا شوق دیا۔ یہاں ہر کونا ایک کہانی سناتا ہے، کیمرہ جہاں بھی رکھوں ایک بہترین منظر بنتا ہے۔”

گڈلی ببوکٹی، جو دبئی میں ایک ٹریول ایجنسی چلا رہے ہیں، ہر سیاح کے لیے سفر کو آسان اور خوشگوار بنانے میں پیش پیش ہیں۔ وہ ہوٹل بکنگ سے لے کر ایئرپورٹ پک اپ اور ٹکٹنگ تک تمام انتظامات کرتے ہیں تاکہ مسافر دبئی کے جادو کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔ گڈلی خود بھی 13 برس قبل سیاح کے طور پر دبئی آئے تھے اور اسی شہر نے انہیں یہیں روک لیا۔

سیاحوں کے تجربے میں تحفظ سب سے اہم عنصر ہے۔ سینی یوسف گزشتہ 30 برسوں سے سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے دبئی کی خدمت کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "دبئی اور یہاں آنے والوں کی حفاظت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔” ان کے لیے سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب انہوں نے اپنے ہی اہل خانہ کو دبئی کی سیر کرائی۔

دبئی کی سیاحت صرف بلند عمارتوں اور لگژری ہوٹلوں تک محدود نہیں، بلکہ ثقافت بھی اس کا ایک اہم پہلو ہے۔ عطر فروش راشد خوشی محسوس کرتے ہیں جب سیاح روایتی عود کی خوشبوؤں کو خرید کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "سیاحوں کو بہترین خوشبو تجویز کرنا اور انہیں خوش دیکھنا میرے لیے فخر کی بات ہے۔”

اس یومِ سیاحت پر دبئی کی شاندار کامیابی کے ساتھ ساتھ ان روزمرہ ہیروز کو یاد رکھنا ضروری ہے جو اپنی لگن اور محبت سے اس شہر کو محض ایک منزل نہیں بلکہ ایک یادگار تجربہ بنا دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button